سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 23شکایات داخل دفتر کردی ہیں جبکہ 6ججز کے خط پر کارروائی بھی موخر کردی گئی ہے۔
سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ادارے میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کونسل نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے اپنے ہی بعض ارکان سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ آئینی دفعات کی روشنی میں کونسل کے مختلف ڈھانچوں کے ساتھ الگ الگ اجلاس منعقد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر
خود احتسابی کے اس عمل کے دوران کونسل کی تشکیلِ نو کی گئی جس کی صدارت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس، جسٹس امین الدین خان نے کی۔ اس نو تشکیل شدہ کونسل میں سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد وحید اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے بطور متبادل ارکان شرکت کی۔
SUPREME JUDICIAL COUNCIL OF PAKISTAN ,MEETING OF THE SUPREME JUDICIAL COUNCIL OF PAKISTAN by nisar.khan74
یہ بھی پڑھیے ایک حاضر سروس جج کے خلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے، جسٹس خادم حسین
اجلاس کے دوران کونسل نے دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 209 کے تحت ایجنڈے پر موجود کل 23 معاملات پر غور کیا اور ان پر کارروائی مکمل کرتے ہوئے انہیں نمٹا دیا۔
اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان، سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل، وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے شرکت کی۔
کونسل کے عبوری سیکریٹری عابد رضوان عابد کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں ان فیصلوں کی تصدیق کی گئی ہے۔











