وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور کا اہم دورہ کرتے ہوئے پولیس ہیڈ کوارٹر میں بنوں میں شہید ہونے والے 15 پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور شہدا کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی ماؤں کا حوصلہ دیکھ کر عزم مزید مضبوط ہوتا ہے جبکہ ملک کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے اہلکار قوم کا فخر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’ایسی قربانیوں کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی‘، وزیراعظم شہباز شریف کا شہدا کو خراجِ عقیدت
پشاور میں اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور ان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہدا کی ماؤں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ جیسی باہمت ماؤں کا حوصلہ ہمارے لیے طاقت کا باعث ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ بنوں میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں نے بہادری اور جوانمردی کی اعلیٰ مثال قائم کی اور وہ شہادت کا عظیم رتبہ پا کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے ہیں۔
بعد ازاں وزیر داخلہ نے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا سے متعلق خصوصی بریفنگ کی صدارت کی، جس میں انہیں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز اور ادارے کی آپریشنل تیاریوں پر تفصیلی آگاہی دی گئی۔
انہوں نے سی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خوارجیوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں قابل تعریف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی استعداد کار بڑھانے کے لیے وفاقی حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔
محسن نقوی نے یادگار شہداء پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔
یہ بھی پڑھیں:شاہد آفریدی نے حکومت کی طرف سے دیا گیا تمغہ امتیاز شہدائے وطن کے نام کردیا
انہوں نے خیبرپختونخوا سیف سٹی پراجیکٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے اینٹی گریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا معائنہ کیا اور جدید کیمرا ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے وزیر داخلہ کو سیف سٹی پراجیکٹ اور سی ٹی ڈی کی کارکردگی پر بریفنگ دی جبکہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری، آئی جی ایف سی کے پی کے نارتھ، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔













