حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اضافی آمدنی کے لیے 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات اور پیٹرولیم لیوی میں 17 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدامات عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہیں جس کا مقصد بنیادی مالی سرپلس 2 اعشاریہ 281 کھرب روپے یعنی مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد تک حاصل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیکس پالیسی تجاویز پر اعلیٰ سطحی اجلاس، آئندہ بجٹ کے لیے متوازن اور ترقیاتی اقدامات پر زور
مالیاتی منصوبے کے مطابق حکومت مجموعی بجٹ خسارہ 4 فیصد سے کم رکھنے کی کوشش جاری رکھے گی۔ وفاقی محصولات کے ادارے کو 15 اعشاریہ 264 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی کا ہدف ایک اعشاریہ 727 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اخراجات کے لیے جاری سرکاری اخراجات کا تخمینہ 15 اعشاریہ 92 کھرب روپے لگایا گیا ہے جس میں سب سے بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں کا ہوگا جو 7 اعشاریہ 82 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ دفاعی اخراجات 2 اعشاریہ 665 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 986 ارب روپے ہے جبکہ سبسڈی کے لیے قریباً 947 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پاکستان کی معیشت کے لیے آئندہ عرصے میں خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدات اور ترسیلات زر پر دباؤ اور عالمی مالیاتی حالات پاکستان کی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں، تاہم مجموعی اثر محدود رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اصلاحاتی پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط بہتر بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، اخراجات میں بہتری لانے، توانائی کی قیمتوں کو اصل لاگت کے مطابق کرنے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مزید پڑھیں:آئندہ بجٹ میں کون سے نئے ٹیکس عائد ہوسکتے ہیں؟
ادارے نے زور دیا ہے کہ مالیاتی سختی برقرار رکھی جائے، شرح مبادلہ کو لچکدار رکھا جائے اور مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر محتاط مالیاتی پالیسی جاری رکھی جائے تاکہ معاشی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لائی جا سکے۔














