ماڈل ٹاؤن لاہور جہاں 4 سیاسی جماعتوں کے دفاتر چند سو میٹر کے فاصلے پر، مگر نظریہ اور منشور الگ الگ

ہفتہ 30 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کا خوبصورت اور اہم رہائشی علاقہ ماڈل ٹاؤن اب سیاسی سرگرمیوں کا بھی بڑا مرکز بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی جڑیں گہری ہیں، وہیں پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان عوامی تحریک نے بھی یہاں اپنے دفاتر قائم کرلیے ہیں۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں دھماکا، 10 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی

یہ تمام دفاتر ایچ بلاک، سی بلاک اور ایم بلاک میں واقع ہیں جو ایک دوسرے سے صرف چند سو میٹر کی دوری پر ہیں۔ الگ الگ نظریات اور منشور کے باوجود یہ جماعتیں ایک ہی جگہ سے سیاست کی بساط بچھا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ماڈل ٹاؤن کو اب سیاست کا گڑھ بھی کہا جا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) مرکزی سیکریٹریٹ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مرکزی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک میں واقع ہے۔ یہ دفتر برسوں سے پارٹی کا اہم مرکز رہا ہے جہاں بڑی میٹنگز، پارلیمانی بورڈ کے اجلاس اور فیصلہ سازی ہوتی رہی ہے۔ ن لیگ خدمت کو ووٹ دو کے نعرے کے ساتھ عوامی خدمت، ترقیاتی پروگرامز اور انفراسٹرکچر پر توجہ دیتی ہے۔

ماڈل ٹاؤن سے ہی پارٹی نے متعدد الیکشن مہمات اور سیاسی تحریکوں کی قیادت کی ہے۔ علاقے میں ن لیگ کی پرانی جڑوں کی وجہ سے یہاں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی  کا صوبائی مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن سی بلاک میں واقع ہے۔ جب پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی تو صدر آصف علی زرداری نے یہاں پر پارٹی سیکرٹریٹ بنوایا ،2013 2018 اور 2024 کے الیکشن میں یہاں بہت سی سیاسی سرگرمیاں کی گئیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس سیکرٹریٹ میں متعدد پریس کانفرنسز کیں، مارچ 2026 میں پارٹی نے لاہور میں تنظیمی بحالی کے تحت ماڈل ٹاؤن آرگنائزیشن کے عہدیداران کا تقرر کیا، جو پیپلز سیکریٹریٹ میں ایک تقریب کے دوران ہوا۔

پارٹی کا تاریخی نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان عوام کے بنیادی حقوق پر مبنی ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں دفتر قائم کرنے کا مقصد لاہور میں پارٹی کی تنظیم کو مضبوط کرنا اور رہنماؤں کی رسائی بڑھانا ہے۔ بلاول ہاؤس بھی ماڈل ٹاؤن کے قریب تعمیر ہو رہا ہے تاکہ پارٹی سرگرمیاں زیادہ مؤثر ہو سکیں۔

استحکام پاکستان پارٹی

استحکام پاکستان پارٹی نے 2023 میں قیام کے فوراً بعد ماڈل ٹاؤن سی بلاک میں اپنا سیکریٹریٹ قائم کرلیا۔ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کی قیادت میں بنی یہ پارٹی عوام کو ریلیف کے منشور کے ساتھ ابھری۔

پارٹی لاہور سمیت پنجاب میں تنظیم سازی، عوامی رابطہ مہمات اور ریلیف پروگرامز پر توجہ دیتی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کا دفتر پارٹی کی لاہور ڈویژن کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں تنظیمی میٹنگز اور فیصلہ سازی ہوتی رہتی ہے۔ البتہ جہانگیر ترین نے اب اس سیاسی جماعت کو خیر باد کہہ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور: ریگی ماڈل ٹاؤن پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ 2 اہلکار شہید

پاکستان عوامی تحریک

پاکستان عوامی تحریک کا دفتر ایم بلاک ماڈل ٹاؤن میں قائم ہے، جو ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں فعال ہے۔ پارٹی کا منشور عوام سب سے پہلے ہے جس میں عوامی مسائل، انصاف اور اصلاحات پر زور دیا جاتا ہے۔

سب سے یادگار واقعہ 17 جون 2014 کا سانحہ ماڈل ٹاؤن جب پولیس آپریشن میں 14 افراد شہید ہوئے۔ اس سانحے کے بعد پی اے ٹی نے 14 اگست 2014 کو لاہور سے اسلام آباد انقلاب مارچ کیا جو 70 دن تک جاری رہا۔ اس تحریک کا مرکز ماڈل ٹاؤن ہی رہا جس نے قومی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا۔

وزیراعظم شہبازشریف، جہانگیرترین، علامہ طاہرالقادری، سابق گورنر مخدوم احمد محمود اور اب بلاول ہاؤس؟

ماڈل ٹاؤن میں جہاں 4 سیاسی جماعتوں کے سیکریٹریٹ ہیں وہیں اب پارٹی سیکریٹریٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی رہنماؤں کے گھر بھی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ شروع سے ہی ماڈل ٹاون میں رہتے ہیں، ان کا گھر بھی پارٹی سیکریٹریٹ سے چند سو میٹر کی دوری پر ہے۔

جہانگیر ترین بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں شفٹ ہو گئے ہیں، علامہ طاہر القادری بھی ماڈل ٹاؤن میں رہتے رہے ہیں جبکہ مخدوم احمد محمود بھی ماڈل ٹاؤن کے رہائشی ہیں اور اب بلاول بھٹو ہاؤس بھی چند مہینوں میں تعمیر ہو جائے گا۔

ماڈل ٹاؤن سے زمان پارک اور پی ٹی آئی کا سیکرٹریٹ کتنا دور ہے؟

ن لیگ، پیپلزپارٹی اور استحکام پارٹی کے سیکریٹریٹ تو ایک دوسرے سے معمولی دوری پر ہیں لیکن پاکستان تحریک کا مرکزی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاون سے قریباً ساڑھے 6 کلومیٹر دور جیل روڑ پر واقع ہے اور زمان پارک ماڈل ٹاؤن سے قریباً ساڑھے 9 کلومیٹر دوری پر ہے۔

قریباً 10 کلومیٹر کے دائرے میں 5 سیاسی جماعتیں موجود ہیں جو عوام اور پاکستان کی خوشحالی کا علم بلند کرتی ہیں۔ ن لیگ، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف یہ تینوں جماعتیں پنجاب اور وفاق میں اقتدار میں رہ چکی ہیں، اس وقت بھی ان جماعتوں کا یہی نعرہ تھا کہ پاکستان خوشحال تو عوام خوشحال اب بھی ان کا یہ ہی نعرہ ہے

مزید پڑھیں:سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس: گواہ کی عدم حاضری پر اے ٹی سی کورٹ نے سماعت ملتوی کردی

ماڈل ٹاؤن  سیاست کا گڑھ

ان چاروں جماعتوں کے دفاتر کی قربت نے ماڈل ٹاؤن کو سیاسی فیصلہ سازی کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔ ن لیگ کی پرانی تاریخ،  پی اے ٹی کا سانحہ، پی پی پی کی تنظیمی بحالی اور  آئی پی پی کا نیا ابھرنا، سب ایک ہی جگہ سے نکل رہے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن اب صرف رہائشی علاقہ نہیں بلکہ سیاسی تحریکوں اور حکمت عملیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔

ماڈل ٹاؤن لاہور ثابت کر رہا ہے کہ سیاست میں جگہ کی قربت اور عوامی رسائی کتنی اہم ہو سکتی ہے، چاہے نظریات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔ آنے والے دنوں میں یہاں سے نئی سیاسی سرگرمیاں سامنے آنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم