عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’عالمی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال‘ قرار دے دیا ہے، جہاں اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز اور 88 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی نئی لہر، 65 افراد ہلاک
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ موجودہ صورتحال عالمی وبا کے معیار پر پوری نہیں اترتی، تاہم پڑوسی ممالک میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس بار پھیلنے والا وائرس ’بنڈی بگیو وائرس ڈیزیز‘ (بی وی ڈی ) ہے، جو ایبولا کی ایک نایاب قسم سمجھی جاتی ہے اور اس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج موجود نہیں۔

رپورٹس کے مطابق 300 سے زائد مشتبہ کیسز میں سے تقریباً تمام کیسز جمہوریہ کانگو میں رپورٹ ہوئے، جبکہ یوگنڈا میں دو کیسز سامنے آئے ہیں۔ یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک متاثرہ شخص ہلاک بھی ہو چکا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ابتدائی ٹیسٹوں میں مثبت نتائج کی شرح زیادہ سامنے آئی ہے اور نئے مشتبہ کیسز مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی وائرس ہے، جو متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں، آلودہ اشیا یا مریض کی لاش سے براہِ راست رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس بیماری میں تیز بخار، جسم درد، قے اور اسہال جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کانگو میں ایبولا کی وبا، 48 میں سے 31 مریض ہلاک
ڈبلیو ایچ او نے متاثرہ ممالک کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر مریضوں کو الگ تھلگ کیا جائے، سرحدی نگرانی سخت کی جائے اور ہنگامی طبی اقدامات فعال کیے جائیں، تاہم عالمی ادارے نے سرحدیں بند کرنے یا سفری و تجارتی پابندیاں لگانے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔














