ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر منگل کو کیے جانے والے حملے کا فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ اس سے فقط ایک گھنٹہ قبل وہ کارروائی مؤخر کرنے کے لیے قائل ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: سنجیدہ مذاکرات اور معاہدے کے امکان کے پیش نظر ایران پر منگل کو ہونے والا حملہ مؤخر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

غیر ملکی میڈیا کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار تھے اور وہ حملہ اس وقت ہو رہا ہوتا۔

ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے جس سے امریکا اور ایران کے درمیان موجود غیر یقینی جنگ بندی باضابطہ طور پر ختم ہو جاتی۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ انہوں نے منگل کے لیے مجوزہ حملہ اس لیے مؤخر کیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باعث انہیں کچھ وقت دینے کی درخواست کی۔

تاہم اس سے قبل ایسی کوئی واضح اطلاعات موجود نہیں تھیں کہ امریکا ایران پر فوری حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خلیجی ممالک کے بعض حکام نے بھی کہا کہ انہیں کسی ممکنہ حملے کے منصوبے کا علم نہیں تھا۔ تاہم یہ امکان موجود ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی واضح بیان اس لیے نہ دیا ہو کہ وہ منگل کے حملے کا انکشاف پہلے نہ کرنا چاہ رہے ہوں اور اس بات کو خفیہ رکھا ہو۔

مزید پڑھیے: ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے یا نہیں جلد پتا چل جائےگا، ڈونلڈ ٹرمپ

بعد ازاں ٹرمپ نے کہا میں کسی کو وقت نہیں بتاتا لیکن انہیں اندازہ تھا کہ ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں کہوں گا کہ میں حملہ مؤخر کرتے وقت حملے کے فیصلے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے تقریباً فیصلہ کر لیا تھا جس کے بعد بعض رہنماؤں نے رابطہ کر کے درخواست کی کہ ایران کو مزید 2 یا 3 دن دیے جائیں کیونکہ ان کے خیال میں ایران مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کر رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع  پیٹ ہیگزتھ اس دوران کینٹکی میں انتخابی مہم میں مصروف تھے۔

مزید پڑھیں: ایران سرنڈ کرکے سفید جھنڈا بھی لہرا دے تو کچھ عناصر اسے تہران کی فتح قرار دیں گے، ٹرمپ کی میڈیا پر تنقید

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے محدود وقت ہے جو 2 یا 3 دن یا اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کئی ہفتوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے لیکن دونوں فریق آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے لیے کشمکش میں ہیں جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں تاہم بعد میں اپنے مقرر کردہ اوقات میں توسیع کرتے رہے ہیں۔

حالیہ امریکی سرویز کے مطابق ایران سے متعلق جنگی صورتحال کو امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی تعداد منفی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز اور سینا کالج کے ایک سروے کے مطابق صرف 31 فیصد امریکی ووٹرز ایران جنگ سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 65 فیصد اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا غزہ تعمیر نو منصوبہ: عملدرآمد میں فنڈز کی کمی رکاوٹ بن گئی، بورڈ کی رپورٹ جاری

اس کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب عوام کو بتایا جاتا ہے کہ یہ کارروائیاں جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے متعلق ہیں تو لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے یہ مقبول ہو یا نہ ہو مجھے یہ کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے