بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے یورپ کے حالیہ دورے کے دوران مختلف ممالک میں انسانی حقوق اور اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں پر سوالات اور احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خود پاکستان آتے تو زیادہ اچھا لگتا، صدر مسلم لیگ نواز شریف
دورے کے دوران ہالینڈ، ناروے اور سویڈن سمیت مختلف یورپی ممالک میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے کشمیر اور اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔
ہالینڈ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یورپی رہنماؤں نے مبینہ طور پر بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ناروے میں صحافتی بریفنگ کے دوران بھارتی قیادت کو انسانی حقوق سے متعلق سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بھارتی وزیراعظم کے دورے کے دوران مختلف گروپوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جہاں کشمیر اور خالصتان سے متعلق نعروں کے ساتھ ریلیاں نکالی گئیں۔ اسی طرح ناروے کی پارلیمنٹ کے باہر بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔
مظاہرین نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، کشمیریوں کی صورتحال اور مذہبی آزادی کے حوالے سے عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جشن عید میلادالنبیﷺ کی مبارک باد
دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے ان دوروں کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا ہے، تاہم بعض حلقوں کے مطابق یورپی سطح پر اٹھنے والے سوالات نے اس دورے کو سفارتی طور پر چیلنجنگ بنا دیا ہے۔












