دنیا کے سب سے معمر ترین پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر اور معروف نیورولوجسٹ، جنہوں نے 103 سال کی طویل اور بھرپور زندگی گزاری، موت سے قبل لمبی اور خوشحال زندگی کے 3 سنہری اصول شیئر کیے تھے۔
دسمبر 2025 میں وفات پانے والے اس امریکی ڈاکٹر کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج تھا۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں واضح کیا تھا کہ لمبی عمر کے لیے جینز اور خوش قسمتی کے ساتھ ساتھ انسان کی روزمرہ کی عادات اور سوچ سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوہائیو، 106 ویں سالگرہ منانے والی امریکی خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتادیا
ان کا پہلا اصول دماغ کو مسلسل متحرک اور مصروف رکھنا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ دماغ ایک مسل کی طرح ہے جسے استعمال نہ کیا جائے تو یہ کمزور ہوجاتا ہے، اسی لیے انہوں نے خود 60 سال کی عمر میں قانون کی پڑھائی شروع کی اور 67 سال کی عمر میں وکالت کا امتحان پاس کیا۔
ان کے مطابق ذہنی طور پر متحرک رہنے کے لیے نوکری ضروری نہیں، بلکہ مطالعہ کرنا، فلاحی کاموں میں حصہ لینا، کوئی نیا ہنر یا ساز سیکھنا بھی انسانی دماغ کو بوڑھا ہونے سے روکتا ہے اور یادداشت کو تیز رکھتا ہے۔
دوسرا اہم اصول دل میں کسی کے لیے نفرت یا غصہ نہ رکھنا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دائمی غصہ اور تلخی انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے، جس سے ذہنی تناؤ بڑھتا ہے، بلڈ پریشر تیز ہوتا ہے اور دل کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 102 سالہ خاتون ڈاکٹر کی خوشی سے بھرپور طویل زندگی کا راز
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کی زیادتی کو بھولنا یا معاف کرنا الگ بات ہے، لیکن اپنے اندر تلخی کو جگہ نہ دیں اور اپنی تمام تر توانائی کو زندگی کے مثبت پہلوؤں اور اچھے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے پر مرکوز کریں۔
تیسرا اور آخری اصول ہر کام میں اعتدال پسندی اختیار کرنا تھا۔ وہ سخت ڈائٹ پلان کے بجائے متوازن طرزِ زندگی پر یقین رکھتے تھے، جس میں اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ ہری سبزیوں اور سلاد کا استعمال لازمی شامل تھا۔
ان کا فلسفہ تھا کہ کسی بھی چیز کی زیادتی یا حد سے زیادہ کمی انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا اور بیمار کر دیتی ہے، اس لیے زندگی کی تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہوں مگر اعتدال کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔













