سائفر سے متعلق سامنے آنے والی تازہ بحث کو بعض حلقے ناقابلِ تردید ثبوت قرار دے رہے ہیں، تاہم حقیقت میں یہ وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے جسے نئے انداز میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
سفارتی سائفر کی موجودگی سے کبھی انکار نہیں کیا گیا، اصل سوال یہ رہا کہ آیا اس سے کسی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔
نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سفارتی زبان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی مارش جاری کیا تھا، تاہم بعد کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے پیچھے کسی غیر ملکی سازش کے شواہد موجود نہیں۔
سائفر ڈرامہ کوئی ناقابلِ تردید ثبوت نہیں، بلکہ پرانی سیاسی کہانی کا نیا سوشل میڈیا ڈرامہ ہے۔ سفارتی سائفر موجود تھا، مگر اس میں پی ٹی آئی حکومت گرانے کی کوئی غیر ملکی سازش ثابت نہیں ہوئی۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے تشویش ظاہر کی، مگر بعد میں واضح کر دیا کہ کوئی ثبوت نہیں ملا۔
پی ٹی… pic.twitter.com/gY67o82PQ0— Hamza Sarkar (@SarkarHamxa) May 19, 2026
پی ٹی آئی پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک سفارتی گفتگو، پارلیمانی تحریکِ عدم اعتماد اور اپنی سیاسی ناکامی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر پیش کر رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد ایک آئینی و جمہوری عمل تھا، جبکہ عمران خان کی حکومت اتحادیوں کی علیحدگی اور مطلوبہ اکثریت کھونے کے باعث ختم ہوئی۔
اس صورتحال کو ’غیر ملکی رجیم چینج‘ قرار دینا سیاسی مؤقف تو ہو سکتا ہے مگر اسے ثبوت نہیں کہا جا سکتا۔
معاملے میں ’کور اَپ‘ یا پردہ ڈالنے کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مؤقف یہ ہے کہ سائفر معاملہ ملک کے اعلیٰ ترین قومی سلامتی فورم میں زیرِ غور آیا، ڈی مارش جاری کیا گیا، عدالتوں میں کیس کی سماعت ہوئی اور بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری بھی کردیا۔ اس تناظر میں اسے ادارہ جاتی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر معاشی، عدالتی، سیکیورٹی اور سماجی مسئلے کو اپریل 2022 کے واقعات سے جوڑنا حقائق پر مبنی تجزیہ نہیں بلکہ سیاسی پروپیگنڈا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے معاشی اور انتظامی مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جنہیں خراب حکمرانی، مالی بے ضابطگی، سیاسی عدم استحکام اور عالمی معاشی حالات نے مزید سنگین بنایا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ خفیہ سفارتی مراسلے کو مستقل سیاسی بیانیے اور عوامی اشتعال کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی نے پہلے سائفر کو سیاسی جلسوں اور بیانیے کا حصہ بنایا اور بعد ازاں قانونی کارروائیوں کے دوران اسے مظلومیت کے تاثر کے لیے استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق سائفر میں سفارتی ناراضی کا اظہار ضرور موجود تھا، تاہم اس سے غیر ملکی رجیم چینج ثابت نہیں ہوتی۔
پی ٹی آئی نے اقتدار کھونے کے بعد اس معاملے کو ایک سیاسی داستان کی شکل دینے کی کوشش کی، اس وقت پاکستان کو استحکام، اصلاحات اور آئینی نظم و ضبط کی ضرورت ہے، نہ کہ ایک ایسی دستاویز کے گرد نیا مصنوعی بحران کھڑا کرنے کی جو پہلے ہی سیاسی طور پر استعمال ہو چکی ہے۔













