عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائفر سے متعلق سامنے آنے والی تازہ بحث کو بعض حلقے ناقابلِ تردید ثبوت قرار دے رہے ہیں، تاہم حقیقت میں یہ وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے جسے نئے انداز میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

سفارتی سائفر کی موجودگی سے کبھی انکار نہیں کیا گیا، اصل سوال یہ رہا کہ آیا اس سے کسی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔

نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سفارتی زبان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی مارش جاری کیا تھا، تاہم بعد کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے پیچھے کسی غیر ملکی سازش کے شواہد موجود نہیں۔

پی ٹی آئی پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک سفارتی گفتگو، پارلیمانی تحریکِ عدم اعتماد اور اپنی سیاسی ناکامی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر پیش کر رہی ہے۔

ناقدین کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد ایک آئینی و جمہوری عمل تھا، جبکہ عمران خان کی حکومت اتحادیوں کی علیحدگی اور مطلوبہ اکثریت کھونے کے باعث ختم ہوئی۔

اس صورتحال کو ’غیر ملکی رجیم چینج‘ قرار دینا سیاسی مؤقف تو ہو سکتا ہے مگر اسے ثبوت نہیں کہا جا سکتا۔

معاملے میں ’کور اَپ‘ یا پردہ ڈالنے کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مؤقف یہ ہے کہ سائفر معاملہ ملک کے اعلیٰ ترین قومی سلامتی فورم میں زیرِ غور آیا، ڈی مارش جاری کیا گیا، عدالتوں میں کیس کی سماعت ہوئی اور بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری بھی کردیا۔ اس تناظر میں اسے ادارہ جاتی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہر معاشی، عدالتی، سیکیورٹی اور سماجی مسئلے کو اپریل 2022 کے واقعات سے جوڑنا حقائق پر مبنی تجزیہ نہیں بلکہ سیاسی پروپیگنڈا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کے معاشی اور انتظامی مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جنہیں خراب حکمرانی، مالی بے ضابطگی، سیاسی عدم استحکام اور عالمی معاشی حالات نے مزید سنگین بنایا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ خفیہ سفارتی مراسلے کو مستقل سیاسی بیانیے اور عوامی اشتعال کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی نے پہلے سائفر کو سیاسی جلسوں اور بیانیے کا حصہ بنایا اور بعد ازاں قانونی کارروائیوں کے دوران اسے مظلومیت کے تاثر کے لیے استعمال کیا۔

رپورٹ کے مطابق سائفر میں سفارتی ناراضی کا اظہار ضرور موجود تھا، تاہم اس سے غیر ملکی رجیم چینج ثابت نہیں ہوتی۔

پی ٹی آئی نے اقتدار کھونے کے بعد اس معاملے کو ایک سیاسی داستان کی شکل دینے کی کوشش کی، اس وقت پاکستان کو استحکام، اصلاحات اور آئینی نظم و ضبط کی ضرورت ہے، نہ کہ ایک ایسی دستاویز کے گرد نیا مصنوعی بحران کھڑا کرنے کی جو پہلے ہی سیاسی طور پر استعمال ہو چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ورلڈ کپ 2026 سے قبل پاکستانی ویمنز کھلاڑیوں کی ٹی20 رینکنگ میں نمایاں بہتری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم