پاکستان میں عید الاضحیٰ مئی کے آخری ہفتے یعنی 27 مئی سے شروع ہوگی۔ محکمہ موسمیات کے موجودہ آؤٹ لک اور موسمیاتی رجحانات کے مطابق عید کے دنوں میں ملک بھر میں موسم شدید گرم خشک رہنے کا امکان ہے۔
عید کے دنوں میں موسم کی صورتحال کے بارے میں موسمیات کے ماہر جواد میمن کا کہنا ہے کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں عید کے دنوں میں شدید گرمی اور حبس کا راج رہے گا۔ مئی کا آخری ہفتہ روایتی طور پر سال کے گرم ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے اور اس بار بھی میدانی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے ساحلی اور اندرونی علاقوں میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویو جیسی صورتحال برقرار رہے گی، جس کی وجہ سے قربانی کے دوران شہریوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔
شمالی اور بالائی علاقوں، خیبر پختونخوا، مری، گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسم نسبتاً بہتر یا جزوی طور پر ابر آلود رہے گا۔ مئی کے مہینے میں وقفے وقفے سے آنے والے مغربی ہواؤں کے سلسلوں کے باعث بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان برقرار رہے گا، جس سے گرمی کی شدت میں کمی آئے گی۔
موسم میں تبدیلی کب اور کیسے؟
جواد میمن کے مطابق موسم میں باقاعدہ اور بڑی تبدیلی جون اور جولائی کے مہینوں میں متوقع ہے، تاہم عید کے فوراً بعد، مئی کے آخری دنوں میں، ایک اور ہلکی مغربی ہواؤں کی لہر ملک کے بالائی اور وسطی حصوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو آندھی، گرد آلود ہواؤں اور چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا سبب بنے گی اور عارضی طور پر درجہ حرارت میں کمی لائے گی۔ ان کے مطابق شدید گرمی کا مستقل خاتمہ اور موسم میں بڑی تبدیلی مون سون کی بارشوں کے آغاز کے بعد ہی ہوگی۔
اس سال عالمی موسمیاتی ماڈلز ظاہر کر رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا اور پاکستان میں مجموعی طور پر مون سون کا آغاز قدرے تاخیر سے ہو سکتا ہے اور بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث جون اور جولائی کے اوائل میں بھی گرمی کی لہر طویل ہو سکتی ہے۔
شدید گرمی میں گوشت کیسے کھایا جائے؟
ڈاکٹر نور سید کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں شدید گرمی کے پیش نظر قربانی کے گوشت کو جلد محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے اور دھوپ میں نکلتے وقت زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں نیم پکا ہوا گوشت ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے اور یہ فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے گوشت کو تیز آنچ پر اچھی طرح اندر تک پکایا جائے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ عید کے پکوانوں میں تیز مرچ مصالحوں، گھی اور چربی کا استعمال کم سے کم رکھا جائے، کیونکہ گرمی میں زیادہ چکنائی والا گوشت معدے پر بوجھ بنتا ہے، جس سے تیزابیت اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر نور سید کے مطابق عید کے نام پر ایک ہی وقت میں بہت زیادہ گوشت کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ دن بھر میں گوشت کی مقدار کو مختلف حصوں میں تقسیم کریں اور رات کو ہلکی غذا استعمال کریں۔ گوشت کے ساتھ کھیرے، ٹماٹر، پیاز اور پودینے کا سلاد لازمی استعمال کریں کیونکہ سبزیوں میں موجود فائبر گوشت کو آسانی سے ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرمی کے موسم میں گوشت کھانے سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے، اس لیے دن بھر میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی ضرور پینا چاہیے۔ گوشت ہضم کرنے کے لیے کولڈ ڈرنکس کا سہارا لینے سے گریز کریں کیونکہ ان میں موجود شوگر اور گیس ہاضمے کو مزید خراب کرتی ہے۔ اس کی جگہ لیموں پانی، پودینے کا قہوہ یا دہی کی پتلی لسی کا استعمال زیادہ مفید ہے۔
ماہرین کے مطابق کھانا کھانے کے فوراً بعد لیٹنے یا سونے سے تیزابیت بڑھ جاتی ہے، اس لیے رات کے کھانے کے بعد کم از کم 15 سے 20 منٹ کی ہلکی واک کو معمول بنایا جائے۔










