بھارت نے سلال ڈیم کھول دیا، دریائے چناب میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جانب سے سالال ڈیم کے اسپِل وے گیٹس کھولنے کے اعلان کے بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے فلڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت نے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹس اچانک کھول دیے، دریائے چناب میں طغیانی کا خطرہ

عرب نیوز کے مطابق بھارتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ دریائے چناب پر واقع سالال ڈیم کے اسپِل وے گیٹس 21 مئی سے 30 مئی تک ذخائر سے گاد (silt flushing) نکالنے کے لیے کھولے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس ریاسی، جموں و کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل 21 مئی صبح 9 بجے سے شروع ہو کر 30 مئی تک جاری رہے گا۔

دریائے چناب پاکستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ دریاؤں میں سے ایک ہے، اور ماضی میں مون سون کے دوران بھارت کی جانب سے اضافی پانی کے اخراج سے پاکستان کے مشرقی پنجاب میں سیلابی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث دریائے چناب کی سطح میں اچانک 2 سے 3 میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے خاص طور پر مرالہ بیراج کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی آبی جارحیت میں شدت: بگلیہار کے بعد سلال ڈیم کے دروازے بھی بند

الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پانی کے اچانک اخراج اور بھاری تلچھٹ کے باعث دریائی بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیاں آسکتی ہیں، جس سے نشیبی علاقوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

محکمہ آبپاشی کو ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ دریائی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے، نہری اخراج کو منظم رکھا جائے اور بیراجز کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا جائے۔

یہ الرٹ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیرآباد، گجرات، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز میں 24 گھنٹے عملہ تعینات رکھا جائے تاکہ بروقت رابطہ، امدادی کارروائیوں اور انخلا کے منصوبوں پر فوری عمل کیا جا سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ حساس مقامات پر ہیوی مشینری کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ بندش یا شگاف کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے اور متاثرہ سڑکوں کی بحالی ممکن ہو۔

واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان نے 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں انڈس واٹرز ٹریٹی پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک کو دریائی پانی کی تقسیم اور معلومات کے تبادلے کا پابند بنایا گیا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس معاہدے سے متعلق تنازعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘