پاکستانی نژاد سائنسدان کی تحقیق، آنکھوں کے ذریعے ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کی شناخت ممکن

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی نژاد برطانوی سائنسدان پروفیسر ریاض ملک نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس آنکھوں کا ایک مختصر اسکین مستقبل میں ڈیمنشیا اور ذیابیطس سے ہونے والے اعصابی نقصان کی بروقت تشخیص میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق صرف 2 سے 3 منٹ پر مشتمل یہ اسکین بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے کئی برس پہلے اعصابی خرابی کا سراغ لگا سکتا ہے۔

ویِل کارنیل میڈیسن قطر سے وابستہ پروفیسر ریاض ملک نے بتایا کہ کارنیل کنفوکل مائیکرواسکوپی نامی ٹیکنالوجی کے ذریعے آنکھ کے قرنیہ میں موجود اعصاب کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سمارٹ واچ کے ذریعے دماغی بیماریوں کی تشخیص کا آسان اور سستا طریقہ دریافت

چونکہ قرنیہ انسانی جسم میں اعصاب سے بھرپور حصہ ہے، اس لیے یہ جسم میں ہونے والے اعصابی نقصان کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کو صرف آنکھوں کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

تاہم بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ذیابیطس، پارکنسنز، ڈیمنشیا، ملٹیپل اسکلروسس، شیزوفرینیا اور دیگر اعصابی بیماریوں کی ابتدائی شناخت بھی کر سکتی ہے۔

پروفیسر ملک کے مطابق 2003 میں ان کی ٹیم نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں قرنیہ کے اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے بعد دنیا بھر میں اس شعبے میں مزید مطالعات ہوئے اور کارنیل کنفوکل مائیکرواسکوپی ٹیکنالوجی کی افادیت تسلیم کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیمنشیا کی تشخیص عموماً اس وقت ہوتی ہے جب مریض میں یادداشت کی کمزوری واضح ہو چکی ہوتی ہے، حالانکہ اعصابی نقصان کئی برس پہلے شروع ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: الزائمر کی ابتدائی تشخیص کا امکان: دماغی بایو مارکر دریافت

ان کے مطابق کارنیل کنفوکل مائیکرواسکوپی اسکین کے ذریعے ایسے افراد کی جلد شناخت ممکن ہے جن میں ابتدائی ذہنی کمزوری پائی جاتی ہو اور بعد میں وہ ڈیمنشیا کا شکار ہو سکتے ہوں۔

پروفیسر ریاض ملک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے اس ٹیکنالوجی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

‘مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں ہزاروں اعصابی خصوصیات کا تجزیہ کرکے بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہے، جبکہ بعض تحقیقات میں اس کی درستگی 90 سے 95 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔’

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp