بیجنگ نے امریکا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے مزید 2 جائنٹ پانڈا امریکا کو ادھار دینے کا فیصلہ کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں کمی کا ایک مثبت اشارہ سمجھا جارہا ہے۔
ایک دہائی پر محیط تحفظِ حیات کے اس معاہدے کے تحت ’پنگ پنگ‘ اور ’فو شوانگ‘ نامی دو پانڈا امریکی ریاست جارجیا کے زو اٹلانٹا منتقل کیے جائیں گے۔ یہ علامتی اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسط مئی میں شی جن پنگ کے ساتھ بیجنگ میں شیڈول مذاکرات سے چند ہفتے قبل سامنے آیا ہے، جسے ایک ثقافتی سفارتی پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی چین کے ایک چڑیا گھر میں کتے ’ پانڈا ‘ کیسے بن گئے؟
یہ سفارتی خیر سگالی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے مابین تجارتی تنازعات اور امریکا ایران جنگ میں بیجنگ کی جانب سے تہران کی حمایت کے باعث شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔
اس سے قبل سال 2024 میں امریکا سے پچھلے پانڈاز کی واپسی کے بعد یہ نیا معاہدہ دونوں طاقتوں کے مابین تلخیوں کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ چین طویل عرصے سے اپنی نرم طاقت (سافٹ پاور) کے اظہار اور دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اس ’پانڈا ڈپلومیسی‘ کا استعمال کرتا آیا ہے، جو جغرافیائی سیاسی تنازعات کے دوران ثقافتی تبادلے کا کام کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں پانڈا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے اس نئے تعاون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جائنٹ پانڈا کے تحفظ کے لیے چین اور امریکا کے درمیان تعاون کا یہ نیا دور پانڈاز کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرے گا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور نایاب نسلوں کو بچانے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی چین اور امریکا کے عوام کے مابین دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔












