کراچی کی ناردرن بائی پاس مویشی منڈی میں عیدالاضحیٰ سے قبل خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے، جہاں متوسط طبقہ سستے بلاکس کا رخ کر رہا ہے جبکہ امیر خریدار اب بھی لگژری انکلوژرز میں مہنگے جانور خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لگژری فارم ہاؤس! جہاں کروڑوں روپے مالیت کے قربانی کے بیل رہتے ہیں
میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی کی مویشی منڈی میں اس وقت ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد جانور موجود ہیں، جن میں گائے، بیل، بکرے اور اونٹ شامل ہیں۔ رواں برس مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث خریداروں کے رجحانات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
Vendors unload and tend to cattle at a livestock market ahead of the Muslim festival of Eid al-Adha, on the outskirts of Karachi, Pakistan pic.twitter.com/UgmB0Px5GG
— AFP News Agency (@AFP) June 19, 2023
رپورٹ کے مطابق جنرل بلاک میں تاجروں کو مفت پلاٹ، پانی اور بجلی کی سہولت دی گئی ہے، جس کے باعث یہاں جانور نسبتاً کم قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ اسی نوعیت کے جانور لگژری ’سیفائر بلاک‘ کے مقابلے میں 25 سے 30 ہزار روپے تک سستے مل رہے ہیں۔
خریدار محمد حماد نے بتایا کہ سیفائر بلاک میں جانوروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، جبکہ جنرل بلاک میں نسبتاً مناسب داموں میں قربانی کے جانور دستیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قربانی کے جانوروں کی کھالیں کہاں جاتی ہیں، ان سے کیا کچھ بنتا ہے؟
دوسری جانب لگژری بلاکس میں خوبصورت اور بھاری بھرکم بیلوں کی نمائش جاری ہے، جہاں بعض جانوروں کی قیمت 40 سے 50 لاکھ روپے تک بتائی جا رہی ہے۔
مویشی منڈی انتظامیہ کے ترجمان فرقان چیپا کے مطابق جنرل بلاکس میں سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقے کے خریداروں کو ریلیف مل سکے۔














