ملک میں جاری شدید مہنگائی کے باعث رواں عید الاضحیٰ پر قربانی کے روایتی رجحانات تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں چھوٹے جانوروں کی قربانی میں متوقع کمی کے باعث پاکستان کی 900 ملین ڈالر مالیت کی لیدر ایکسپورٹ انڈسٹری کو خام مال (کھالوں) کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی طلب پوری کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے کھالوں کی درآمد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے چیئرمین حامد ارشد ظہور نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ملک میں جاری شدید مہنگائی کے باعث رواں عید کے سیزن میں چھوٹے جانوروں کی قربانی میں تقریباً 5 فیصد کمی کا امکان ہے۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان کی تقریباً 900 ملین ڈالر مالیت کی ویلیو ایڈڈ لیدر ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے خام مال کی درآمدات بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے قربانی کے جانوروں کی کھالیں کہاں جاتی ہیں، ان سے کیا کچھ بنتا ہے؟
واضح رہے کہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں کو ٹینڈ لیدر (کمائی چمڑا)، لیدر گارمنٹس، دستانے اور جوتے برآمد کرنے والے بڑے ملک پاکستان میں رواں سال عید الاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جولائی تا دسمبر مالی سال 26 کی حالیہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق، چمڑے کی مصنوعات کا شعبہ پاکستان کی اہم برآمدی صنعتوں میں سے ایک ہے، جو لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کے تحت ملک کی مجموعی صنعتی پیداوار میں 1.2 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔
تاہم، اس وقت یہ صنعت ایک نئے چیلنج سے دوچار ہے کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے لوگ انفرادی طور پر مہنگے بکرے یا دنبے خریدنے کے بجائے گائے یا بیل کی صورت میں اجتماعی قربانی کو ترجیح دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
حامد ارشد ظہور نے بتایا، ’اس عید پر قیمتوں کے دباؤ کی وجہ سے بڑے جانوروں کی قربانی زیادہ کی جائے گی‘۔
ایسوسی ایشن کے تخمینے کے مطابق، اس عید پر ذبح کیے جانے والے گائے اور بیلوں کی تعداد گزشتہ سال کے 25 لاکھ سے 12 فیصد بڑھ کر 28 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسری طرف، بکروں اور بھیڑوں کی قربانی 4 فیصد کمی کے ساتھ 48 لاکھ رہنے کا امکان ہے، جس میں 43 لاکھ بکرے اور 5 لاکھ بھیڑیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹینرز کو تقریباً 30 ہزار اونٹوں کی کھالیں ملنے کی بھی امید ہے۔
یہ بھی پڑھیے اس سال جانور کی کھال کا کیا ریٹ ہے؟
پی ٹی اے کے چیئرمین کا کہنا تھا، ’اس کی بنیادی وجہ عوام کی قوتِ خرید میں کمی ہے، جو انہیں اجتماعی قربانی کی طرف مائل کر رہی ہے۔ مقامی مویشی منڈیوں میں ایک اوسط بکرے یا دنبے کی قیمت 60,000 روپے (215.4 ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جسے خریدنا اب ایک عام خریدار کے بس میں نہیں رہا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مہنگائی کے اثرات کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کا اوسط سائز بھی چھوٹا ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’پہلے عید کے سیزن میں ہمیں 30 سے 32 فٹ سائز کی کھالیں ملتی تھیں، جو اب کم ہو کر تقریباً 26 فٹ رہ گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کے ستائے لوگ اب جانوروں کے سائز پر سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ یہی صورتحال بکرے کی کھالوں کے ساتھ بھی ہے۔‘
پاکستانی ٹینرز، جنہیں اس سال مجموعی طور پر 10 ارب روپے (36 ملین ڈالر) مالیت کی کھالیں جمع ہونے کی توقع ہے، مقامی سطح پر قلت کے باعث برآمدی صنعت کو خام مال درآمد کر کے فراہم کر رہے ہیں۔ حامد ارشد ظہور نے بتایا، ’ایک محتاط اندازے کے مطابق، پاکستان اپنی ویلیو ایڈڈ لیدر انڈسٹری کی ضروریات کے لیے 150 ملین ڈالر مالیت کا خام مال (کچی کھالیں) درآمد کرتا ہے، جسے مقامی مینوفیکچررز تیار کر کے برآمد کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی لیدر انڈسٹری کا مجموعی حجم 850 سے 900 ملین ڈالر کے درمیان ہے اور عالمی کاروباری ماحول اور برآمدی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے ان درآمدات میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 25 میں پاکستان کی چمڑے کی برآمدات 848.3 ملین ڈالر رہیں۔ رواں مالی سال کے جولائی تا اپریل کے دوران برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 706.5 ملین ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد معمولی کمی کے ساتھ 699.5 ملین ڈالر رہیں۔ اس عرصے کے دوران ہونے والی برآمدات میں 108 ملین ڈالر کا ٹینڈ لیدر، 479 ملین ڈالر کے لیدر گارمنٹس و دستانے اور 113 ملین ڈالر کے چمڑے کے جوتے شامل ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے وضاحت کی، ’برآمدات میں محض ایک فیصد کی یہ معمولی کمی مارچ اور اپریل کے مہینوں میں (ایران میں) جنگ کی وجہ سے ہوئی، جس کے باعث مال بردار جہاز دور رہے اور ہماری برآمدات بروقت روانہ نہ ہو سکیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ویلیو ایڈڈ لیدر انڈسٹری بشمول جوتے، گارمنٹس، ہینڈ بیگز اور دستانے، پریمیم کوالٹی کے لیدر، واٹر پروف، فائر پروف اور ملٹری دستانے بنانے کے لیے بکرے کی کھال پر انحصار کرتی ہے، جبکہ بھیڑ کی کھال زیادہ تر لیدر گارمنٹس کی برآمدی صنعت میں استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے سالانہ کھالوں کی کھپت کی تفصیلی تعداد بتائے بغیر کہا، ’جب بکرے اور بھیڑ کی کھالوں کی مقامی مقدار کم ہوگی، تو مینوفیکچررز زیادہ درآمدات کا رخ کریں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے قربانی کے جانوروں کی کھالیں ڈالر کمانے کا ذریعہ کیسے بنتی ہیں؟
یاد رہے کہ پاکستان چھوٹے جانوروں کی کھالیں نیوزی لینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا، جنوبی امریکا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک سے درآمد کرتا ہے، جبکہ پاکستانی چمڑے کی بڑی برآمدی مارکیٹوں میں ویتنام، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، اٹلی، اسپین، امریکا اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک شامل ہیں۔
حامد ارشد ظہور نے زور دیتے ہوئے کہا، ’اگر ہم ملک میں لائیوسٹاک فارمنگ، گوشت کی برآمدات، کھالوں کو محفوظ کرنے کے طریقے اور عید کے سیزن میں جانوروں کو ذبح کرنے کے روایتی طریقوں کو بہتر بنا لیں، تو صرف ٹیننگ انڈسٹری ہی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے 150 ملین ڈالر کے خام مال کا درآمدی متبادل فراہم کر کے ملکی سرمایہ بچا سکتی ہے۔‘














