وزیراعظم پاکستان کے دورہ چین کے موقعے پر پاکستان اور چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو نئی اسٹریٹجک بلندی تک لے جانے اور ’نئے دور کی مشترکہ مستقبل برادری‘ کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معاشی طاقت کے میدان میں چین کا کوئی ثانی نہیں، وزیراعظم شہبازشریف
مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے دفاع، سلامتی اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے، چین پاکستان سیکیورٹی پارٹنرشپ کے قیام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
چین نے پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت دہراتے ہوئے تائیوان کو چین کا اٹوٹ حصہ قرار دیا۔
دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے، گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے اور خنجراب راہداری کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے پر بھی اتفاقِ رائے سامنے آیا۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور شی جن پنگ کی ملاقات، پاک چین تعاون کے نئے دور پر اتفاق
اعلامیے میں پاکستانی خلا بازوں کی چین میں تربیت اور مستقبل میں ایک پاکستانی خلا باز کی چینی اسپیس اسٹیشن میں شمولیت کے امکانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے دونوں ممالک کے سائنسی تعاون میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور چین نے معدنیات، توانائی، صنعتی پارکس اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا جبکہ چین نے سنہ 2025 سے سنہ 2029 تک پاکستان کے لیے 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
چین نے پاکستان کی معاشی بحالی کی کوششوں اور ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کو سراہتے ہوئے اسے مثبت پیشرفت قرار دیا۔
علاقائی اور عالمی امور پر بھی دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔ مشترکہ اعلامیے میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا جبکہ چین نے مسئلہ کشمیر کو ایک تاریخی تنازع قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے حل کی حمایت دہرائی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، زراعت، ماحولیات اور میڈیا سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط
چین نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کے کردار اور کثیرالجہتی سفارتکاری کو سراہا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار اور ’اسلام آباد مذاکرات‘ کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اعلامیے میں پاکستان، چین اور افغانستان کے سہ فریقی روابط میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے دہشتگرد تنظیموں ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خلاف واضح مؤقف اپنانے اور دہشتگردی کے معاملے پر دوہرے معیار کی مخالفت پر زور دیا گیا۔
دونوں ممالک نے عالمی سطح پر یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور ایک کثیر القطبی عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان جلد ترقی کے سفر میں چین کے ہم قدم ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
ماہرین کے مطابق یہ اعلامیہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاک چین تعلقات اب محض تاریخی دوستی تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ مستقبل پر مبنی، ہمہ جہت اور جدید اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو ٹیکنالوجی، ترقی اور علاقائی استحکام کے نئے دور کی عکاسی کرتے ہیں۔














