وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سینیٹر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاہم جنگی صورتحال کے باعث بڑے ریلیف پیکج میں مشکلات پیش آئیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا کررہی ہے، لیکن موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔
مزید پڑھیں: بھارت میں عیدالاضحیٰ پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسہ جاری، ہندوتوا کارکن سور لے آئے
انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کررہی ہے جبکہ معاشی ٹیم مختلف امور پر مذاکرات میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں جنگی صورتحال نہ ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف ایک بڑا ریلیف پیکج دیتے، تاہم موجودہ حالات کے باوجود عوام کو سہولتیں دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سرحد پار سے دہشتگرد پاکستان میں کارروائیاں کررہے ہیں اور حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں سرحدی نقل و حرکت اہم وجہ ہے۔
انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ بھارت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے، کیونکہ بارڈر سیکیورٹی بہتر ہونے سے دہشتگردی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بے گھر بچوں کی عید
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا جبکہ پاکستانی افواج بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت سے دہشتگرد عناصر کا مقابلہ کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوجائے گا اور ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، اور اگر کسی معاہدے میں فلسطین کو تسلیم کیا جاتا ہے اور فلسطینی قیادت اسے قبول کرتی ہے تو پاکستان بھی اس فیصلے کی حمایت کرے گا۔












