بھارتی شہر ممبئی کے علاقے میراں روڈ میں واقع پونم کلسٹر سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے لیے قرنامی لے بکرے رکھنے پر ہندوتوا تنظیم سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے سوسائٹی کے باہر ہنگامہ برپا کیا اور سور لے آئے۔
مزید پڑھیں: ہندوتوا پالیسی، بی جے پی نے علی گڑھ کا ’ہندو نام‘ رکھنے کی تیاری کرلی
Location: Mira Road, Mumbai
Activists from a Hindutva organization brought a pig into Poonam Cluster Society to protest goats kept there for Eid al-Adha. Note: these activists are primarily targeting and harassing the Muslim families living in the society. pic.twitter.com/tHmuIGYGWs
— The Muslim (@TheMuslim786) May 26, 2026
سوشل میڈیا پر جاری اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سوسائٹی کے باہر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا اور عیدالاضحیٰ کے لیے رکھے گئے جانوروں پر اعتراض اٹھایا۔ بعد ازاں بلدیاتی ادارے بی ایم سی نے کارروائی کرتے ہوئے بکرے وہاں سے منتقل کردیے۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض ہندوتوا کارکن خنزیر لے کر سوسائٹی میں داخل ہونے کی کوشش بھی کرتے رہے، جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
Location: Mira Road, Mumbai
After Hindutva organisation workers protested against goats kept for Eid-ul-Azha at Poonam Cluster Society, the BMC removed the goats and relocated them. pic.twitter.com/iqxAydq4U1
— The Muslim (@TheMuslim786) May 26, 2026
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوسائٹی میں رہائش پذیر مسلم خاندانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: بی جے پی رہنما نتیش رانے کی مسلم مخالف ہرزہ سرائی، مسلمانوں کو ’سبز سانپ‘ قرار دے دیا
واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہیں جبکہ پولیس کی جانب سے بھی مسلمانوں کو عدم تحفظ کا سامنا اور شکایات ہیں۔












