بھارت میں عیدالاضحیٰ پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسہ جاری، ہندوتوا کارکن سور لے آئے

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی شہر ممبئی کے علاقے میراں روڈ میں واقع پونم کلسٹر سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے لیے قرنامی لے بکرے رکھنے پر ہندوتوا تنظیم سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے سوسائٹی کے باہر ہنگامہ برپا کیا اور سور لے آئے۔

مزید پڑھیں: ہندوتوا پالیسی، بی جے پی نے علی گڑھ کا ’ہندو نام‘ رکھنے کی تیاری کرلی

سوشل میڈیا پر جاری اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سوسائٹی کے باہر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا اور عیدالاضحیٰ کے لیے رکھے گئے جانوروں پر اعتراض اٹھایا۔ بعد ازاں بلدیاتی ادارے بی ایم سی نے کارروائی کرتے ہوئے بکرے وہاں سے منتقل کردیے۔

رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض ہندوتوا کارکن خنزیر لے کر سوسائٹی میں داخل ہونے کی کوشش بھی کرتے رہے، جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوسائٹی میں رہائش پذیر مسلم خاندانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: بی جے پی رہنما نتیش رانے کی مسلم مخالف ہرزہ سرائی، مسلمانوں کو ’سبز سانپ‘ قرار دے دیا

واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہیں جبکہ پولیس کی جانب سے بھی مسلمانوں کو عدم تحفظ کا سامنا اور شکایات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp