موسمی اتار چڑھاؤ کے پیش نظر حکومت بلوچستان کا ہنگامی لائحہ عمل تیار، پلان میں کیا خاص ہے؟

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت بلوچستان نے ممکنہ مون سون بارشوں، سیلاب، ہیٹ ویو اور غیر معمولی موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے ’مون سون کنٹیجنسی پلان 2026‘ کی منظوری دے دی جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 7 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کو قربانی کی کھالیں دینے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اہم اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مون سون، ہیٹ ویو، کلاؤڈ برسٹ اور ممکنہ ہیٹ برسٹ جیسے غیر معمولی موسمی خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو ماہرین کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رواں برس بلوچستان میں درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں، سیلابی صورتحال اور ہیٹ برسٹ جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: سیندک منصوبے میں بلوچستان کو کتنی رائلٹی ملی؟

اس موقعے پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تمام اضلاع میں 1122 ریسکیو سینٹرز فعال کیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں تحصیل سطح پر بھی ریسکیو مراکز قائم کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں ڈویژنل اور ضلعی سطح پر پی ڈی ایم اے دفاتر کو فعال بنانے، ریسکیو مشینری، خیمے، ادویات اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی کی منظوری بھی دی گئی۔

شدید گرمی کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک ایمرجنسی نافذ کرنے، ادویات، طبی عملے اور ایمبولینسز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

مزید پڑھیں: عید ایام: سندھ اور بلوچستان کے صارفین کے لیے گیس کب سے کب تک دستیاب ہوگی؟

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کو شدید گرمی اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں، مساجد، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے شعور اجاگر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر معمولی موسمی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ حساس اضلاع میں نکاسی آب، امدادی سامان، ریسکیو مشینری اور ہیٹ ویو ریلیف پوائنٹس ہر صورت فعال رکھے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت ریسپانس ناگزیر ہے اور حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات گزشتہ چند برسوں کے دوران زیادہ شدت سے سامنے آئے ہیں۔ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے اس مرتبہ پیشگی منصوبہ بندی، فنڈز کی فراہمی اور ضلعی سطح تک ریسکیو نظام کو فعال بنانے کا اقدام اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایف آئی اے بلوچستان زون کی حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف بڑی کامیابیاں، چمن عدالت سے ملزمان کو سزائیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع اور جغرافیائی طور پر دشوار گزار صوبے میں صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ بروقت عملدرآمد، مقامی انتظامیہ کی استعداد کار اور عوامی آگاہی ہی اس منصوبے کی کامیابی کا اصل امتحان ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp