امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے پر غور کے لیے وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، تاہم تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس اہم مشاورت کے بعد بھی کسی حتمی فیصلے یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
White House official to Al Arabiya English:
🔴 The Situation Room meeting has concluded and lasted approximately two hours
🔴 President Trump will only make a deal that is good for America and satisfies his redlines
🔴 Iran can never possess a nuclear weapon pic.twitter.com/2im58r77R9
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) May 29, 2026
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس سے قبل کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ سمجھوتے کے حوالے سے ’حتمی فیصلہ‘ کرنے جا رہے ہیں، لیکن اجلاس کے اختتام کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے صرف اتنا کہا گیا کہ صدر ایسا ہی معاہدہ قبول کریں گے جو امریکی مفادات اور ان کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ بھی دہرایا گیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو
رپورٹس کے مطابق زیر غور معاہدے میں آبنائے ہرمز کو بحری آمد ورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز گزشتہ کئی ہفتوں سے خطے میں کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، نائب صدر جے ڈی وینس اور قومی سلامتی سے متعلق دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ تاہم اجلاس کے بعد یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے یا مزید مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
US Secretary of Defense Pete Hegseth said Washington remains firmly committed to its global security obligations, including preventing Iran from acquiring a nuclear weapon.
For live updates: https://t.co/eGGnqRTCEJ pic.twitter.com/2gJblHuzgu
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) May 30, 2026
دوسری جانب تہران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ابھی کوئی حتمی مفاہمتی یادداشت طے نہیں پائی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے جاری ہیں، لیکن مجوزہ دستاویز کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔ ایرانی قیادت کی جانب سے بھی اس معاہدے کی باضابطہ منظوری کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اسی دوران خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب چار جہازوں کو بغیر پیشگی اجازت گزرنے کی کوشش پر وارننگ فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد جاری رہے گا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سنگاپور میں ایک بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ ایک ’اچھا معاہدہ‘ ہوگا اور صدر ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے صبر سے کام لے رہے ہیں کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران مناسب معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
ادھر امریکی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی ایرانی کرپٹو کرنسی ضبط کر لی ہے، جسے ایران کی مالی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، کیا ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے دباؤ میں ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے فوری اعلان نہ کیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے حساس معاملات پر ابھی بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں، جہاں کسی بھی پیشرفت کے عالمی توانائی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔













