امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کہنا ہے کہ بطور ثالث پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات میں پیشرفت: ایران نے امریکا کے لیے نیا پروپوزل پاکستان کے حوالے کردیا
مارکو روبیو نے سوئیڈن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی وفد بھی آج تہران جا رہا ہے اور امید ہے کہ یہ سفارتی کوششیں معاہدے کی جانب پیشرفت میں مددگار ثابت ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور بات چیت میں مثبت اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔
As of May 21, CENTCOM forces have redirected 94 commercial vessels and disabled 4 while enforcing the blockade to prevent the flow of commerce into and out of Iranian ports. pic.twitter.com/A54jjxDaYE
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 21, 2026
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ہمیشہ ایک بہتر اور مؤثر معاہدہ رہی ہے۔ ان کے بقول اگر ایک اچھی ڈیل ہو جاتی ہے تو یہ بہترین پیشرفت ہوگی۔ انہوں نے کہا ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آگے کیا ہوگا لیکن پوری کوشش یہی ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے ایک مثبت نتیجے تک پہنچا جائے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ شروع سے ہی مذاکرات، معاہدے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتے آئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ کچھ حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں تاہم وہ اس مرحلے پر حد سے زیادہ پرامید نہیں ہو سکتے۔
Iran Cautions of US, Israeli Plot to Divide Islamic Stateshttps://t.co/xjIiEvCaG8 pic.twitter.com/2ahlmo7pZi
— Fars News Agency (@EnglishFars) May 18, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی حل کے لیے تیار ہے تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح ایک اچھا معاہدہ ہے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد امن مذاکرات نے پاکستان کو عروج بخشا، اگلا مرحلہ جلد منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری
مارکو روبیو نے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام تہران جا رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ اس سے سفارتی پیشرفت میں مدد ملے گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مذاکراتی عمل میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے۔
مارکو روبیو نیٹو اجلاس میں فوجی تعیناتی اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر بات کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم نافذ کرتا ہے تو اس سے ممکنہ سفارتی معاہدہ ناقابل عمل ہو سکتا ہے۔
.@POTUS on Iran: "It's right on the borderline, believe me. If we don't get the right answers, it goes very quickly. We're all ready to go. We have to get the right answers — it would have to be a complete 100% good answers." pic.twitter.com/LGFDQW4Z3h
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 20, 2026
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے ایرانی بحری نگرانی میں گزرے جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث 94 تجارتی جہازوں کا رخ ایرانی بندرگاہوں سے موڑ دیا گیا اور 4 جہاز غیر فعال ہوئے۔
مزید پڑھیں: کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک انتظامی زون قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت اس علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام سے اجازت اور رابطہ کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز کہا کہ امریکا ایران کے جواب کے لیے چند دن انتظار کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی منطقی لوگ ہیں لیکن اگر ہمیں درست جواب نہ ملا تو معاملات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی رعایت اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک ایران معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران کو ثالثوں کے ذریعے امریکا کی نئی تجویز موصول ہوئی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اگرچہ واشنگٹن کے عزائم پر اسے اب بھی شکوک موجود ہیں۔
🔴 #LIVE: Briefing by Russian Foreign Ministry Spokeswoman Maria Zakharova on topical foreign policy issues https://t.co/g0poSOsDNv
— MFA Russia 🇷🇺 (@mfa_russia) May 21, 2026
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہماری جانب سے سفارتکاری کے تمام راستے کھلے ہیں اور باہمی احترام پر مبنی سفارتکاری جنگ سے کہیں زیادہ دانشمندانہ اور پائیدار راستہ ہے۔
دوسری جانب روس اور چین نے بھی ایران بحران کے حل کے لیے سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ ایران کے جوہری ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ صرف ایران کو کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
چین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف رواں ماہ بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ پاکستان کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔













