معاہدے پر عملدرآمد کے لیے فیصلہ کن مذاکرات، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی کمیٹی آمنے سامنے

ہفتہ 30 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں جاری عوامی مطالبات اور سابقہ معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان اہم مذاکراتی عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ دونوں فریق مختلف عوامی مطالبات، حکومتی وعدوں اور معاہدے کے نکات پر تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں۔

مذاکرات کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو 31 مئی تک کی واضح ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے، اس لیے مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

کمیٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے سمیت معاہدے میں شامل تمام نکات پر مکمل، مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے گزشتہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور اب مزید تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ ان وعدوں کی عملی تکمیل پر ہوگا جو عوام سے کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دیرینہ مسائل کا قابل قبول حل نکالا جائے گا۔

دوسری جانب وفاقی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے بھی مختلف مطالبات اور تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں فریق باہمی مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیاسی اور عوامی حلقوں کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاسی فضا بلکہ عوامی مطالبات کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مذاکراتی عمل کے اختتام پر کسی پیشرفت یا مشترکہ اعلامیے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مکروہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

گلگت بلتستان انتخابات سبوتاژ کرنے کے لیے پی ٹی آئی افراتفری پر اتر آئی

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی