بین الاقوامی ہیکنگ مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی ایک معروف اخلاقی (ایتھیکل) ہیکر نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے جدید ٹولز، خصوصاً کلاڈ مِتھوس جیسے سسٹمز، مستقبل میں انسانی ہیکرز کے لیے مقابلہ کرنا کہیں زیادہ مشکل بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے واقعات، پی ٹی اے نے عوامی آگاہی کے لیے معلوماتی ویڈیو جاری کردی
بی بی سی کے مطابق اطالوی اخلاقی ہیکر ویلنٹینا پالمیوٹی، جو ٹیک دنیا میں ’چومپی‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، نے برلن میں منعقد ہونے والے سالانہ بین الاقوامی ہیکنگ مقابلے ’پون ٹو اون‘ میں سب سے زیادہ انعامات جیت کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔
ویلنٹینا پالمیوٹی نے بتایا کہ اس وقت اے آئی ٹولز ان جیسے ماہرین کے لیے مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور سافٹ ویئر میں خامیاں تلاش کرنے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں تاہم مستقبل قریب میں یہی ٹیکنالوجی اتنی طاقتور ہو سکتی ہے کہ صرف غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے ہیکرز ہی اس میدان میں مقابلہ کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اس سال مقابلے میں اس سوچ کے ساتھ حصہ لیا کہ شاید یہ میرا آخری موقع ہو کیونکہ جلد ہی بہت سے آسان سیکیورٹی نقائص اے آئی کی مدد سے پہلے ہی دریافت ہو جائیں گے۔

کلاڈ مِتھوس کیا ہے؟
کلاڈ مِتھوس ایک جدید اے آئی ماڈل ہے جس کے بارے میں اس کے خالق ادارے اینتھروپک کا دعویٰ ہے کہ یہ سینکڑوں سافٹ ویئر پروگرامز میں 1600 سے زائد سیکیورٹی خامیاں تلاش کر چکا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں ٹی وی چینلز ہیک کیوں ہوئے اور انٹرنیٹ ہیکنگ ہوتی کیسے ہے؟
ماہرین کے مطابق ایسے ٹولز سافٹ ویئر میں موجود کمزوریاں تیزی سے ڈھونڈ سکتے ہیں جس سے ایک طرف سائبر دفاع مضبوط ہو سکتا ہے تو دوسری جانب ہیکنگ مقابلوں میں انسانی برتری کو چیلنج بھی درپیش ہو سکتا ہے۔
مقابلے میں 13 لاکھ ڈالر سے زائد انعامات
پون ٹو اون مقابلے میں اس سال تقریباً 13 لاکھ ڈالر انعامی رقم تقسیم کی گئی جبکہ شرکا نے مختلف سسٹمز میں 47 نئی ہیکنگ تکنیکیں دریافت کیں۔
چومپی نے ایک موقع پر این ویڈیا سے منسلک نظام میں خامی تلاش کر کے 20 ہزار ڈالر جیتے جبکہ بعد ازاں لینکس پر مبنی ایک اور نظام میں کامیاب ہیکنگ کے ذریعے 50 ہزار ڈالر اپنے نام کیے۔
مزید پڑھیں: ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارمز پر ہیکنگ کا خطرہ، نیشنل سی ای آر ٹی کا صارفین اور اداروں کو انتباہ
انہوں نے بتایا کہ مقابلے کے دوران وہ کئی گھنٹے مسلسل کام کرتی رہیں جسے وہ مزاحاً ’زومبی ہیکر موڈ‘ کہتی ہیں۔
اخلاقی ہیکنگ کیا ہوتی ہے؟
اخلاقی ہیکنگ سے مراد کمپیوٹر سسٹمز، ویب سائٹس یا سافٹ ویئر میں موجود سیکیورٹی خامیوں کو قانونی اجازت کے ساتھ تلاش کرنا ہے تاکہ ان کمزوریوں کی نشاندہی کر کے انہیں سائبر مجرموں کے استعمال سے پہلے دور کیا جا سکے۔ ایسے ماہرین کو اخلاقی ہیکرز یا وائٹ ہیٹ ہیکرز کہا جاتا ہے جو کمپنیوں اور اداروں کے لیے حفاظتی نظام مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ان کے مقابلے کیوں کرائے جاتے ہیں؟
اخلاقی ہیکنگ کے مقابلے اس لیے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ ماہرین مختلف سسٹمز میں موجود نئی کمزوریاں دریافت کر سکیں جنہیں متعلقہ کمپنیاں بروقت درست کر سکیں۔ ان مقابلوں سے نہ صرف سائبر سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے بلکہ ہیکرز کو اپنی مہارت آزمانے، نئی تکنیکیں سیکھنے اور انعامات حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا ہے جبکہ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے سسٹمز مزید محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔
’پون ٹو اون‘ مقابلہ، اصطلاح اور مطلب
’پون ٹو اون‘ ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں ہیکرز سافٹ ویئر کی خامیاں تلاش کر کے ثابت کرتے ہیں کہ وہ متعلقہ نظام پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ’پون ٹو اون‘ (Pwn2Own) دراصل ہیکنگ کی اصطلاح ’Pwn‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب کسی کمپیوٹر سسٹم پر مکمل کنٹرول حاصل کر لینا ہے جبکہ ’Own‘ سے مراد اسی کامیابی کو ثابت کرنا ہے۔ اس مقابلے میں ہیکرز کسی سسٹم میں خامی تلاش کر کے اسے اپنے قابو میں لے کر اپنی مہارت دکھاتے ہیں۔
مقابلوں کی مختصر تاریخ
بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی مقابلہ ’پون ٹو اون‘ دنیا کے مختلف شہروں میں منعقد کیا جاتا ہے جن میں امریکا، کینیڈا، جاپان، آئرلینڈ اور جرمنی شامل ہیں۔ اس میں دنیا بھر سے اخلاقی ہیکرز شرکت کرتے ہیں۔
یہ مقابلہ سنہ 2007 میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں شروع ہوا تھا۔ اسے زیرو ڈے انیشی ایٹو نے متعارف کرایا جس کا مقصد سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل سسٹمز میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں عوامی استحصال سے پہلے درست کروانا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ سمیت سائبر جرائم میں 35 فیصد اضافہ
ابتدا میں یہ مقابلہ محدود نوعیت کا تھا لیکن وقت کے ساتھ اس میں اسمارٹ فونز، براؤزرز، آپریٹنگ سسٹمز، کلاؤڈ سروسز اور جدید اے آئی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہوتی گئیں اور آج یہ دنیا کے سب سے معتبر ہیکنگ مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔
اے آئی: خطرہ یا مددگار؟
ایک اور معروف ہیکر اورنج تسائی نے اے آئی کو انسانی محققین کے لیے ایک طاقتور معاون قرار دیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت تحقیق کا عمل تیز ضرور کرتی ہے مگر انسانی تخلیقی صلاحیت اور وجدان اب بھی ایسی کمزوریاں تلاش کر سکتے ہیں جو اے آئی کی نظروں سے اوجھل رہ جائیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں اے آئی نصاب متعارف کروانے کی تیاری، پہلی جماعت سے تعلیم دینے پر غور
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید اے آئی ٹولز ذمہ داری سے استعمال کیے گئے تو یہ سائبر دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم ان تک رسائی کے قواعد و ضوابط نہایت اہم ہوں گے تاکہ یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں نہ جائے۔














