وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت صوبے میں طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو نصاب کا حصہ بنانے کی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ترجمان دفتر مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے اے آئی و خصوصی اقدامات علی ڈار کے مطابق پنجاب کے بچوں کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت اے آئی نصاب کی تیاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
اس سلسلے میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سی ای او پنجاب ایجوکیشن کریکولم ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی کے ہمراہ آفس آف اے آئی کا دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ سمیت سائبر جرائم میں 35 فیصد اضافہ
جہاں علی ڈار اور رانا سکندر حیات کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اے آئی کو نصاب کا حصہ بنانے، اس کے دائرہ کار اور عملی نفاذ پر تفصیلی غور کیا گیا۔
علی ڈار کا کہنا تھا کہ اے آئی مستقبل کی ناگزیر ضرورت ہے اور نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا وقت کا تقاضا بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی جماعت سے ہی اے آئی تعلیم کے آغاز پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو ابتدائی سطح پر جدید مہارتوں سے روشناس کرایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ نصاب میں ڈیجیٹل لٹریسی، کمپیوٹیشنل تھنکنگ، روبوٹکس اور اخلاقی اے آئی جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے، جبکہ 65 فیصد تعلیم کو پروجیکٹ بیسڈ لرننگ پر مشتمل بنایا جائے گا تاکہ طلبہ کی عملی مہارتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
علی ڈار کے مطابق اساتذہ کا کردار اس تبدیلی میں کلیدی ہوگا اور انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دے کر تعلیمی نظام میں مثبت انقلاب لایا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو اے آئی کے ذریعے بااختیار بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ صدر کو استثنیٰ ملنا چاہیے پھر وہ استثنیٰ دیا گیا ، اسحاق ڈار
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پنجاب اے آئی نصاب متعارف کروانے والا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق اس منصوبے پر فوری عملدرآمد کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اے آئی نصاب سے متعلق حتمی سفارشات وزیراعلیٰ کو بھجوا دی گئی ہیں۔













