کراچی کے قدیم علاقے لی مارکیٹ میں بحالی کے منصوبے کے دوران کھدائی کرتے ہوئے 2 مجسمے برآمد ہوئے ہیں جن کی تاریخی حیثیت اور قدامت جانچنے کے لیے ماہرین نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ مجسموں کو محفوظ طریقے سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی تاریخی اہمیت اور اصلیت کا تعین ماہرین کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے لیاری میں واقع لی مارکیٹ میں بحالی اور مرمت کا کام جاری تھا کہ کھدائی کے دوران قدیم طرز کے دو مجسمے دریافت ہوئے۔ ابتدائی مشاہدے کے مطابق دونوں مجسمے اچھی حالت میں محفوظ ہیں۔
مزید پڑھیے: فلم میرا لیاری: پروپیگنڈا کے خلاف پاکستان کا حقیقت پر مبنی جواب
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ثقافتی ورثے سے متعلق اداروں سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ مجسمے کتنے قدیم ہیں، ان کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور آیا ان کی مشابہت برصغیر میں پہلے دریافت ہونے والے آثار سے ہے یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقام پر کھدائی نہایت احتیاط سے جاری رکھی جا رہی ہے تاکہ اگر مزید مجسمے یا تاریخی نوادرات موجود ہوں تو انہیں بھی محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔
During the excavation work at Lee Market by KMC, these 2 statues were found. This is quite interesting, isn’t it ? pic.twitter.com/Lk6GwODE3X
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) July 24, 2026
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ دریافت ہونے والے مجسموں کا سائنسی تجزیہ بھی کیا جائے گا تاکہ ان سے متعلق تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔
کے ایم سی کے مطابق مختلف متعلقہ ادارے اس معاملے پر مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: فلم ‘میرا لیاری’ کی تشہیر کے دوران دنانیر مبین کے لباس پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دریافت ہونے والے یہ مجسمے برصغیر میں ماضی میں ملنے والی قدیم مورتیوں سے مشابہت رکھتے ہیں تاہم ان کی حتمی تاریخی حیثیت ماہرین کی رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔














