سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل کی جانب سے بھارتی سیاحوں کے لیے خصوصی ہدایات سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بن گئی ہیں۔ بھارتی ارب پتی ہرش گوئنکا کی جانب سے شیئر کیے گئے اس نوٹس میں سوئٹزرلینڈ میں ہوٹل انتظامیہ نے بھارتی سیاحوں کو سخت پیغام دیا ہے جس میں بوفے سے کھانا باہر لے جانے اور شور و غل سے گریز جیسے نکات شامل ہیں۔
ہرش گوئنکا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سوئٹزرلینڈ میں واقع ہوٹل ‘Hotel Arc-En-Ciel’ کا ایک نوٹس شیئر کیا، جس میں مخصوص طور پر بھارتی سیاحوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔ نوٹس میں ‘Dear guests from India’ کے عنوان کے ساتھ مختلف ہدایات دی گئی ہیں، جن میں ناشتہ کرنے کے آداب، ریستوران میں رویہ اور ہوٹل کے راہداریوں و بالکونیوں میں شور کم رکھنے کی تاکید شامل ہے۔
A Swiss hotel once displayed a list of special rules exclusively for Indian guests which I personally saw and was appalled.
Today, videos of garba in restaurants, loud conversations in airports, and turning aircraft cabins into picnic spots keep doing the rounds. Even in Davos,… pic.twitter.com/ccljdLmDfk
— Harsh Goenka (@hvgoenka) May 31, 2026
ایک ہدایت میں کہا گیا کہ بھارتی سیاح بوفے سے کھانا لے کر باہر نہ لے جائیں۔ بوفے میں موجود تمام کھانا تازہ تیار کیا جاتا ہے اور مقامی پیداوار پر مشتمل ہوتا ہے۔ براہِ کرم اپنے ساتھ کچھ نہ لے جائیں یہ کھانا صرف ناشتے کے لیے ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ مہمان چاہیں تو اضافی ادائیگی کے ساتھ لنچ پیک لے سکتے ہیں۔
ہوٹل نے یہ بھی کہا کہ مہمان صرف فراہم کردہ سرونگ کٹلری استعمال کریں تاکہ دیگر مہمانوں کے لیے بوفے صاف رہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ریستوران دوپہر اور رات کے کھانے کے لیے بھی کھلا ہے۔ اگر آپ دو یا زیادہ افراد کے لیے ایک ڈش شیئر کرنا چاہتے ہیں تو ہر اضافی شخص کے لیے 5 سوئس فرانک سروس اور پلیٹ کے لیے جبکہ 1 فرانک مشروب کے لیے چارج کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’بوفے کا کھانا اپنے بیگ میں مت ڈالیں‘، سوئٹزرلینڈ کے ہوٹل کا بھارتی سیاحوں کو انتباہ
مزید یہ بھی کہا گیا کہ ہوٹل میں موجود دیگر مہمانوں کے آرام کے لیے شور و غل سے گریز کیا جائے۔ ہوٹل میں دنیا بھر سے مہمان موجود ہیں۔ وہ بھی سکون اور خاموشی کو پسند کرتے ہیں اس لیے ہم درخواست کرتے ہیں کہ راہداریوں اور بالکونیوں میں بلند آواز سے بات نہ کریں۔ اور اگر مہمان کھانا شیئر کرنا چاہیں تو اضافی پلیٹس اور مشروبات کے لیے اضافی سروس چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
ہرش گوئنکا نے یہ تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ نوٹس ذاتی طور پر دیکھا اور وہ اس پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بیرونِ ملک بھارتیوں کی جانب سے بعض مواقع پر عوامی مقامات پر غیر مناسب رویے کی ویڈیوز بھی دیکھی ہیں جن میں ریستوران میں ڈانس، ہوائی اڈوں پر بلند آواز میں گفتگو اور جہاز کے اندر پکنک جیسا ماحول شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گول گپے کے پانی سے زندہ چوہا نکل آیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نے ڈیووس کے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا جس میں ایک بھارتی بزنس مین پر الزام تھا کہ اس نے کلب میں اتنی بلند آواز میں پنجابی موسیقی چلائی کہ پورا شہر متاثر ہوا۔ جاپان کی مثال دیتے ہوئے ہرش گوئنکا نے کہا کہ اس ملک نے اپنے اخلاق اور تہذیب کی وجہ سے دنیا بھر میں عزت حاصل کی ہے۔
ان کے مطابق اگر بھارت واقعی ایک عالمی طاقت بننا چاہتا ہے تو دنیا کو بھارتیوں کو ان کی شائستگی، عزت اور دوسروں کے لیے احترام کے ساتھ یاد رکھنا ہوگا اور اس حوالے سے شہری رویے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی یا لاہور: کھانا کہاں زیادہ بہتر؟ وسیم اکرم نے اپنا فیصلہ سنا دیا
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک پوسٹ وائرل ہوئی تھی جس میں ایک بھارتی نے بتایا کہ ہوٹل کے کمرے میں انہیں ایک نوٹس نظر آیا جس میں بھارتیوں کو بوفے کھانے کو بیگ میں ڈالنے سے منع کیا گیا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ ہوٹل روم کے دروازے کے پیچھے ایک لمبا پیغام چسپاں تھا، جس کا خلاصہ یہ تھا براہ کرم بوفے کھانے کو اپنے بیگ یا پرس میں نہ ڈالیں۔ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو علیحدہ پیک کھانا فراہم کر سکتے ہیں۔













