پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے گلگت میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگتے ہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپنی دیرینہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں بعد عوام سے براہِ راست گفتگو کرکے انہیں بے حد خوشی ہو رہی ہے۔
نواز شریف نے اسکردو، شگر اور گھانچے کے عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاید لوگ انہیں بھول گئے ہوں، تاہم وہ آج اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے اور عوام سے تجدیدِ تعلق کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ سے قبل بھی وہ گلگت بلتستان آتے رہے ہیں اور اس خطے کے پہاڑوں، وادیوں اور عوام سے انہیں خصوصی لگاؤ ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا ’آپ لوگ میرے دل میں بستے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے ایئرپورٹ سے جلسہ گاہ تک سفر کے دوران سڑکوں کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال دیکھ کر انہیں شدید دکھ اور تکلیف ہوئی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب ان کی حکومت نے شوق اور محنت سے ان علاقوں کے لیے سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی تھی، تاہم یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت پر تنقید نہیں کرنا چاہتے، لیکن دل یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کو اس کی ضروری توجہ کیوں نہ مل سکی۔
نواز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوام پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسپتالوں، بجلی کے منصوبوں، پن بجلی اسکیموں اور دیامر بھاشا ڈیم سمیت متعدد اہم منصوبوں پر ان کی حکومت نے عملی پیشرفت کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی دوسری جماعت نے بھی اس خطے میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی ہو تو عوام ضرور بتائیں۔ انہوں نے گلگت ایئرپورٹ کی موجودہ حالت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کی توسیع اور پروازوں میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں گلگت ایئرپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور یہاں جیٹ طیاروں کی سہولت فراہم کرنے کی بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہفتے میں چند پروازوں کے بجائے روزانہ اور بڑی تعداد میں پروازیں ہونی چاہئیں تاکہ سیاحت، تجارت اور معیشت کو فروغ مل سکے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جدید شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کی بدولت اسکردو اور دیگر علاقوں تک سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے، تاہم مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر حصوں سے مؤثر انداز میں جوڑنے کے لیے انفراسٹرکچر کی ترقی ناگزیر ہے۔
توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پن بجلی اور شمسی توانائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے شگر کے لیے 100 میگاواٹ بجلی منصوبے کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سردیوں میں 20 گھنٹے اور گرمیوں میں 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
نواز شریف نے کہا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، عوامی مسائل کا حل ان کی ذمہ داری ہے اور وہ ترقیاتی کاموں کو کبھی ووٹ سے مشروط نہیں کریں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی گلگت بلتستان کے دورے کی تجویز دیں گے تاکہ علاقے کی ضروریات کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ ہر 2 سے 3 ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے۔ میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں کہ جو منصوبے شروع کیے جائیں وہ مکمل بھی ہوں۔
نواز شریف نے گلگت بلتستان کے مالی اور آئینی حقوق کے مسئلے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے 2017 میں اس معاملے کے مستقل حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ان کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی سرتاج عزیز کو سونپی گئی تھی تاکہ خطے کے حقوق، وسائل اور انتظامی معاملات پر جامع سفارشات مرتب کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اپنی سفارشات تیار کر چکی تھی اور اگلا مرحلہ ان پر عملدرآمد کا تھا، تاہم 2018 میں حکومت کے خاتمے کے باعث یہ عمل ادھورا رہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں سیاسی نشیب و فراز، جلاوطنی اور قید جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن عوامی خدمت کا جذبہ کبھی کم نہیں ہوا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے معاملات کو موضوعِ بحث نہیں بنانا چاہتے، تاہم گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر دوبارہ موقع ملا تو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اس مسئلے کو منطقی اور دیرپا انجام تک پہنچایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:نواز شریف گلگت بلتستان میں جلسوں سے خطاب کریں گے، انتخابی مہم چلانے کی اجازت مل گئی
قائد مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کو دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ قراقرم کو مزید بہتر بناتے ہوئے خنجراب تک جدید معیار کے مطابق ترقی دینا وقت کی ضرورت ہے اور وہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ فائدہ گلگت بلتستان کو پہنچ سکتا ہے، جس سے علاقے میں خوشحالی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ اسلام آباد سے کراچی تک موٹرویز کا جال بچھ چکا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مانسہرہ سے گلگت بلتستان تک بھی جدید موٹروے تعمیر کی جائے تاکہ علاقے کو قومی معیشت کے دھارے سے مزید مؤثر انداز میں جوڑا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو بھی وہی ترقیاتی سہولیات اور وسائل ملنے چاہئیں جو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کو حاصل ہیں۔
صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جدید طبی مراکز اور ہسپتالوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے دل کے امراض کے علاج کی سہولت شروع ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سہولتیں برسوں پہلے دستیاب ہونی چاہئیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دل کے پیچیدہ آپریشنز اور کینسر کے علاج کی جدید سہولتیں مقامی سطح پر موجود ہوں تاکہ مریضوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری سے نہ صرف عوام کو معیاری علاج ملے گا بلکہ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے ہاؤسنگ اور روزگار کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنی چھت کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ گلگت بلتستان میں آسان شرائط پر ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے جائیں اور پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرز پر رہائشی منصوبے شروع کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کاروبار اور خود روزگاری کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں اور مقامی معیشت کو مضبوط بنا سکیں۔
خطاب کے اختتام پر نواز شریف نے کہا کہ وہ عوام سے محض ووٹ مانگنے نہیں بلکہ ان کے مسائل کا قابلِ عمل حل پیش کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے ان کی جماعت اپنا کردار جاری رکھے گی اور جو وعدے کیے جائیں گے انہیں عملی شکل دی جائے گی۔














