کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت، نئی ادویات اور طریقۂ علاج نے امید جگا دی

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں کینسر کے ماہرین کے سالانہ اجلاس میں مختلف اقسام کے کینسر کے علاج سے متعلق کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ محققین نے لبلبے کے کینسر کے لیے ایک نئی مؤثر دوا، پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں نمایاں کامیابی، اور اوزیمپک جیسی وزن کم کرنے والی ادویات کے ممکنہ انسدادِ کینسر فوائد سے متعلق حوصلہ افزا نتائج پیش کیے ہیں۔

امریکی شہر شکاگو میں منعقدہ کینسر کے ماہرین کے سالانہ اجلاس میں محققین نے علاج کے کئی نئے اور امید افزا طریقوں سے متعلق نتائج پیش کیے، جن میں لبلبے کے کینسر کے خلاف اہم پیش رفت، پروسٹیٹ کینسر کے لیے زیادہ مؤثر علاج، اور وزن کم کرنے والی ادویات کے ممکنہ فوائد شامل ہیں۔

یہ اجلاس امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی (ایسکو) کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس میں سات ہزار سے زائد تحقیقی مطالعات پیش کیے گئے۔

لبلبے کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت

پیش کیے گئے مطالعات میں لبلبے کے کینسر سے متعلق تحقیق کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ کئی دہائیوں بعد اس مہلک مرض کے علاج میں پہلی بڑی پیش رفت ہے۔

امریکی بایو ٹیک کمپنی ریولوشن میڈیسنز کی تیار کردہ نئی دوا ’ڈاراکسونراسب‘ نے جارحانہ مگر عام قسم کے لبلبے کے کینسر کے مریضوں میں روایتی کیمو تھراپی کے مقابلے میں نمایاں بہتر نتائج دکھائے۔

یہ بھی پڑھیے نوجوانوں میں 11 اقسام کے کینسر میں اضافہ، سائنسدانوں نے ممکنہ وجہ کا ابتدائی سراغ لگا لیا

تحقیق کے مطابق اس دوا کے استعمال سے نصف مریض 13 ماہ سے زائد عرصے تک زندہ رہے، جو کیمو تھراپی حاصل کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا عرصہ ہے۔

ماہرِ امراضِ سرطان مونٹی پال نے اس پیش رفت کو ’لبلبے کے جدید مرحلے کے کینسر کے علاج میں ایک غیر معمولی تبدیلی‘ قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا ایک ایسے پروٹین کو ہدف بناتی ہے جو کئی اقسام کے کینسر میں کردار ادا کرتا ہے اور جس کے خلاف مؤثر علاج حالیہ عرصے تک دستیاب نہیں تھا۔

کیا اوزیمپک کینسر پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے؟

اجلاس میں پیش کی گئی ایک اور تحقیق میں وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی معروف ادویات، جیسے اوزیمپک اور ویگووی، کے ممکنہ انسدادِ کینسر اثرات پر ابتدائی مگر حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔

یہ ادویات دراصل ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھیں اور جسم میں ایک مخصوص ہاضماتی ہارمون کی نقل کرتی ہیں۔ بعد ازاں انہیں وزن کم کرنے کے لیے بھی مؤثر پایا گیا۔

امریکی محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا یہ ادویات ابتدائی مرحلے کے کینسر کو جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روک سکتی ہیں یا نہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ پھیپھڑوں، چھاتی، بڑی آنت اور جگر کے کینسر میں ایسے مریضوں کے ہاں بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ 38 سے 50 فیصد تک کم دیکھا گیا جو یہ ادویات استعمال کر رہے تھے، جبکہ روایتی ذیابیطس کی ادویات لینے والے مریضوں میں ایسا نہیں تھا۔

مطالعے کے مرکزی محقق مارک اورلینڈ نے کہا کہ نتائج امید افزا ہیں، تاہم ان کی تصدیق کے لیے مزید بڑے اور منظم کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، ’یہ ابھی صرف آغاز ہے۔‘

کینسر کے علاج کو زیادہ ہدفی اور کم نقصان دہ بنانے کی کوشش

اجلاس میں پیش کی گئی متعدد تحقیقات کا مقصد علاج کے دوران غیر ضروری طبی مداخلت کو کم کرنا بھی تھا۔

ایک تحقیق میں چھاتی کے کینسر کے مریضوں میں بغل کے لمف نوڈز نکالنے کی سرجری کے فوائد کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے مریض جن کے کینسر نے صرف ایک یا دو لمف نوڈز تک رسائی حاصل کی ہو، ان میں اس سرجری سے گریز محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسکو کی نائب صدر جولی گرالو نے کہا کہ بہت سے مریضوں میں غیر ضروری طور پر یہ سرجری کی جا رہی ہے، جس کے باعث انہیں طویل المدتی مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں امید افزا نتائج

اجلاس میں پروسٹیٹ کینسر سے متعلق ایک بین الاقوامی تحقیق کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

پروسٹیٹ کینسر مردوں میں سب سے عام کینسر اور کینسر سے ہونے والی اموات کی دوسری بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق میں ایسے مریضوں کا جائزہ لیا گیا جن میں جینیاتی تبدیلیوں کے باعث بیماری زیادہ جارحانہ شکل اختیار کر سکتی ہے۔

محققین نے دو ادویات کا مشترکہ استعمال آزمایا: اینزالوٹامائڈ، جو کینسر کو بڑھانے والے ہارمونز کے اثرات کو روکتی ہے، اور ٹالازوپاریب، جو کینسر کے خلیات کے ڈی این اے کی مرمت کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔

نتائج کے مطابق بی آر سی اے ٹو جین میں تبدیلی رکھنے والے مریضوں میں ٹالازوپاریب کے اضافے سے رسولی کے بڑھنے یا موت کے خطرے میں 65 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

مطالعے کے سربراہ فرانسیسی نژاد مراکشی ماہرِ سرطان پروفیسر کریم فیزازی نے ان نتائج کو ’غیر معمولی‘ اور ’علاج کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت‘ قرار دیا۔

خون کے ٹیسٹ: امید افزا مگر مزید تحقیق درکار

ماہرین نے خون کے ذریعے کینسر کی تشخیص، جسے ’لیکوئیڈ بایوپسی‘ کہا جاتا ہے، کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔

ان تحقیقات میں علاج کے خلاف مزاحمت کی ابتدائی شناخت اور ایسے کینسرز کی جلد تشخیص کے امکانات کا جائزہ لیا گیا جن کے لیے روایتی اسکریننگ نظام موجود نہیں۔

ایک تحقیق میں ’گیلیری‘ نامی خون کے ٹیسٹ کا جائزہ لیا گیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے 50 اقسام کے کینسر کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے قدیم ترین دوا ’اسپرین‘ کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے، نئی تحقیق

تاہم برطانیہ کے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار پر مبنی اس تحقیق کے نتائج کو ماہرین کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ اگرچہ بعض پہلوؤں سے نتائج حوصلہ افزا تھے، لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اس ٹیسٹ سے 12 اقسام کے کینسر کی دیر سے تشخیص کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ تحقیقات کینسر کے علاج اور تشخیص کے میدان میں امید افزا پیش رفت کی عکاس ہیں، تاہم بیشتر نئے طریقۂ علاج اور تشخیصی ٹیکنالوجیز کو وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل مزید تحقیق اور تصدیق کی ضرورت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’معرکہ حق‘ ٹی20 کرکٹ میچ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام الیون نے جیت لیا، سیلیبریٹیز الیون کو شکست

سونا امریکی بانڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ریزرو اثاثہ بن گیا

پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب، ایک سال میں کتنے افراد بینکنگ نظام کا حصہ بنے، حیران کن اعدادوشمار

طالبان حکومت سے فرار ہونے والی افغان خواتین فٹبالرز کی بین الاقوامی میدانوں میں شاندار واپسی

کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ورلڈ کلچر فیسٹیول، 140 ممالک کے ایک ہزار فنکار شرکت کریں گے

ویڈیو

علیمہ خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بجٹ پیش کرنے سے کیوں روکا؟

ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کر لیا، مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز شامل کی جا رہی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی