اے آئی سرچ کے بڑھتے اثرات، برطانوی ریگولیٹر کا گوگل کے خلاف اہم اقدام

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے مسابقتی نگران ادارے کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی (سی ایم اے) نے گوگل کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ویب سائٹ مالکان اور پبلشرز کو یہ اختیار فراہم کرے کہ ان کا مواد گوگل کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سرچ سروسز میں استعمال نہ کیا جائے۔

اس اقدام کو ادارے نے ’دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ‘ قرار دیا ہے اور اسے ڈیجیٹل پبلشنگ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کہا جا رہا ہے۔

سی ایم اے نے جنوری میں اس تجویز کا ابتدائی خاکہ پیش کیا تھا، جس کے بعد مختلف فریقوں سے مشاورت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج

ویب سائٹ پبلشرز، بالخصوص میڈیا ادارے، طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ان کا مواد بغیر مناسب معاوضے کے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی سے تیار کیے گئے خلاصے صارفین کو اصل ویب صفحات تک جانے کی ضرورت کم کر دیتے ہیں، جس سے ویب سائٹس کی ٹریفک متاثر ہوتی ہے اور اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی آتی ہے۔

گوگل نے اس فیصلے کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ایک نئے کنٹرول کی آزمائش شروع کر رہا ہے جس کے ذریعے ویب سائٹ مالکان اپنے لنکس اور مواد کے استعمال سے متعلق ترجیحات طے کر سکیں گے۔

تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ جو ویب سائٹس اپنے مواد کو جنریٹو اے آئی فیچرز سے الگ رکھنے کا انتخاب کریں گی، انہیں ان فیچرز کے ذریعے حاصل ہونے والی ٹریفک یا امپریشنز بھی نہیں ملیں گے۔

گوگل کی سرچ ایکو سسٹم کی جنرل منیجر مرنالنی لو کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد ویب سائٹ مالکان کو زیادہ اختیارات دینا اور ان کے مواد کے استعمال کے طریقہ کار میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔

سی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پبلشرز اور صارفین دونوں کے لیے زیادہ منصفانہ ماحول پیدا ہوگا۔

ادارے نے گوگل کو یہ بھی پابند کیا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ سرچ نتائج میں پبلشرز کے مواد کا واضح حوالہ دیا جائے اور اصل ویب صفحات کے لنکس نمایاں انداز میں شامل کیے جائیں۔

سی ایم اے کی چیف ایگزیکٹو سارہ کارڈیل نے کہا کہ گوگل کے ’اے آئی اوورویوز‘ جیسے فیچرز آن لائن سرچ کے نظام کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: گوگل اے آئی نے زمین پر خلائی مخلوق کے پوشیدہ ٹھکانوں کی نشاندہی کردی

اس لیے ضروری ہے کہ خبروں کے اداروں سمیت تمام مواد تخلیق کرنے والوں کو اپنے مواد کے استعمال کے حوالے سے مؤثر اختیار اور گفت و شنید کا موقع حاصل ہو۔

گوگل کے مطابق اس وقت اس کے ’اے آئی اوورویوز‘ کے ماہانہ صارفین کی تعداد 2.5 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کمپنی مستقبل میں اپنے روایتی سرچ انجن کو مزید اے آئی پر مبنی سہولیات سے آراستہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے