پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کی نمائندگی ہمیشہ ایک منفرد احساس ہوتا ہے، تاہم کم بیک کے موقع پر جوش و خروش کے ساتھ دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کے لیے ذہنی طور پر خود کو تیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ویڈیو انٹرویو میں شاداب خان نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی واپسی، انجری سے بحالی اور موجودہ قومی ٹیم کے امکانات پر اظہار خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاداب خان کی ٹی20 اسکواڈ میں واپسی، سابق کپتان راشد لطیف بول پڑے
شاداب خان نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کھلاڑیوں پر اثر انداز ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے، تاہم وہ بیرونی تنقید اور شور و غوغا کو اپنے کھیل پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔
ان کے مطابق اگر کھلاڑی منفی تبصروں سے متاثر ہونا شروع ہو جائے تو میدان میں اس کی لڑنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔
🚨 NUMBER OF SIXES HIT BY A BATTER THIS ODI SERIES 🆚 🇦🇺
SHADAB KHAN – 3 🔥
BABAR AZAM – ZERO
MAAZ SADAQAT – ZERO 🦆
SHAHIBZADA FARHAN – ZERO 🦆
ABDUL SAMAD – ZERO 🦆
SALMAN AGHA – ZERO 🦆
GAZI GHORI – ZERO 🦆THE LONE WARRIOR @76Shadabkhan pic.twitter.com/Y8AD8ae3hA
— Mian Ahmad (@aHmADmIaN150) June 2, 2026
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کے لیے خود اعتمادی اور بہادری ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی محنت اور کوشش پر یقین رکھتے ہیں جبکہ نتائج کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے دوسروں کی رائے کو اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں بننے دیتے۔
آل راؤنڈر نے اپنی انجری اور آپریشن کے دورانیے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید وہ دوبارہ کرکٹ نہ کھیل سکیں۔
مزید پڑھیں: شاداب خان ٹیم میں کہاں فٹ؟ محمد حفیظ اور ثقلین مشتاق کے درمیان لائیو شو میں تکرار
تاہم خاندان اور قریبی دوستوں کی حوصلہ افزائی نے انہیں مشکل وقت سے نکلنے میں مدد دی اور دوبارہ میدان میں واپسی کا حوصلہ دیا۔
ون ڈے کرکٹ کے بارے میں شاداب خان نے کہا کہ موجودہ دور میں 50 اوورز کا فارمیٹ سب سے مشکل فارمیٹس میں سے ایک ہے کیونکہ اس میں ٹی20 جیسی تیز رفتاری برقرار رکھنے کے ساتھ طویل وقت تک تسلسل بھی درکار ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ تربیتی کیمپ اور پریکٹس میچز نے انہیں ون ڈے کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ردھم اور فٹنس بحال کرنے میں کافی مدد فراہم کی۔
مزید پڑھیں: ہمارا فوکس ورلڈ کپ جیتنے پر ہے، شاداب خان کا بھارت سے ہار پر تنقید کرنے والوں کو جواب
شاداب خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں اور کسی بھی منتخب اسکواڈ میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا اچھا امتزاج موجود ہوتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم اپنی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کے بل بوتے پر بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا کی طرح ’نیور گیو اَپ‘ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ’آسٹریلوی ٹیم آخری موقع تک مقابلہ جاری رکھتی ہے اور یہی خصوصیت پاکستانی ٹیم مزید بہتر انداز میں اپنا سکتی ہے۔‘












