پاکستان نے آسٹریلیا کو تیسرے ون ڈے میں 4وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے تیسرے ون ڈے میں آسٹریلیا کو 4وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی ہے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کی شاندار کارکردگی کے باعث 42 اوورز میں محض 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس کے جواب میں قومی ٹیم نے مطلوبہ ہدف 41 اعشاریہ 5 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا جب اوپنر میتھیو شارٹ میچ کی دوسری ہی گیند پر شاہین شاہ آفریدی کا شکار بن کر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ کپتان جوش انگلس نے 57 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھالا دینے کی کوشش کی لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹک سکا۔

مارنس لبوشین 19 اور الیکس کیری بھی 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ابرار احمد اور شاداب خان نے 2، 2 وکٹیں حاصل کر کے کینگرز کی بیٹنگ لائن کو بے بس کردیا۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات بھی زیادہ سازگار نہ تھیں اور اوپنر صاحبزادہ فرحان صرف 6 رنز بنا کر نیتھن ایلس کی گیند پر بولڈ ہو گئے، جس کے بعد معاذ صداقت بھی 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

 سابق کپتان بابر اعظم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 40 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ غازی غوری 8 اور سلمان آغا 15 رنز بنا کر میتھیو کونیمین کا شکار بنے، جنہوں نے بہترین بولنگ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

مڈل آرڈر میں عرفات منہاس 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کی 6 وکٹیں 112 رنز پر گر چکی تھیں اور میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا تھا۔

اس نازک صورتحال میں عبدالصمد اور شاداب خان نے گراؤنڈ پر پراعتماد انداز اپنایا اور بالترتیب 18 اور 29 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ٹیم کو 49 گیندیں قبل ہی فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔

مین آف دی میچ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جنہوں نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ اوورز میں محض 30 رنز دے کر3 اہم ترین وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلوی بیٹنگ لائن کی کمر توڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مین آف دی سیریز

پاکستان کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے آل راؤنڈر عرفات منہاس کو پوری سیریز کے دوران بہترین اور متوازن کارکردگی دکھانے پر سیریز کا بہترین کھلاڑی منتخب کیا گیا، جنہوں نے اس یادگار کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مثبت ذہنیت اور میچز کے لیے کی جانے والی شاندار تیاری کا نتیجہ قرار دیا۔

’اپنی اور ٹیم کی کارکردگی پر بے حد خوش ہیں‘

میچ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے مین آف دی سیریز کا اعزاز پانے والے پاکستان کے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اور ٹیم کی کارکردگی پر بے حد خوش ہیں اور مستقبل میں بھی اسی کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سب کچھ مثبت ذہنیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے، کیونکہ اگر آپ کی سوچ مثبت ہو تو نتائج بھی اچھے ملتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیریز کے لیے ہماری تیاری بہت شاندار تھی جس کا ہمیں بھرپور فائدہ ملا ہے، یہ سیریز خود کو تیار کرنے اور اعتماد حاصل کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے اور اس کارکردگی سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوں گے، وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور آنے والے مقابلوں کے لیے بہترین تیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

‘پہلے میچ کی طرح اس مقابلے میں بھی ہم نے بہت کم رنز اسکور کیے’

آسٹریلوی ٹیم کے کپتان جوش انگلس نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے میچ کی طرح اس مقابلے میں بھی ہم نے بہت کم رنز اسکور کیے، البتہ ہماری بولنگ اور خاص طور پر فیلڈنگ لائن نے میچ میں فتح حاصل کرنے کے لیے شاندار کوشش کی لیکن بدقسمتی سے ہم کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈریسنگ روم میں کئی نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جن کے لیے یہ سیریز سیکھنے کا ایک بہترین تجربہ ثابت ہوئی ہے، ہم نے دوسرے میچ کے بعد اپنی خامیوں کو سدھارنے کی کوشش کی تھی اور آج ہمارے پاس میچ پر گرفت مضبوط کرنے کا ایک بہترین موقع تھا لیکن ہم نے کھیل دوبارہ پاکستان کے ہاتھ میں سونپ دیا۔

انہوں نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین ٹیم ہے اور یہ شکست ہمارے لیے مایوس کن ہے، تاہم اس دورے سے ہمیں بہت سی مثبت چیزیں سیکھنے کو ملی ہیں، بنگلہ دیش میں بھی ہمیں ایسی ہی کنڈیشنز مل سکتی ہیں اس لیے یہاں مختلف حالات کا تجربہ کرنا اور ان کے مطابق منصوبے بنانا کھلاڑیوں کے لیے انتہائی قیمتی رہا۔

’پوری سیریز میں فتح کسی ایک کھلاڑی کی نہیں بلکہ مکمل ٹیم ورک کا نتیجہ ہے‘

پاکستانی ٹیم کے کپتان اور میچ کے بہترین کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری سیریز میں فتح کسی ایک کھلاڑی کی نہیں بلکہ مکمل ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچ پر بلے بازوں کے لیے حالات کافی مشکل تھے لیکن ہمارے کھلاڑیوں نے ایک ایک رن کے لیے سخت محنت کی، جب آپ اپنی ہوم کنڈیشنز میں کھیل رہے ہوں تو آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا پورا فائدہ اٹھایا جائے، جیسے جب ہم نے آسٹریلیا کا دورہ کر کے وہاں سیریز جیتی تھی تو وہاں کے حالات فاسٹ بولنگ کے لیے سازگار تھے۔

شاہین شاہ آفریدی نے حارث رؤف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس بہترین سیریز کا کریڈٹ پانے کے حقدار ہیں، میچ کے دوران آسٹریلیا کی کچھ اچھی شراکت داریاں ضرور قائم ہوئیں لیکن ہمارا منصوبہ صرف زیادہ سے زیادہ ڈاٹ بالز پھینک کر دباؤ بڑھانا تھا جس پر تمام بولرز نے بہترین انداز میں عمل درآمد کیا، وہ مستقبل میں بھی ٹیم کی بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں کے مطابق ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رومانیہ کی بندرگاہ پر بحری ڈرون دھماکا، یوکرین کا روس پر سگنل جام کرنے کا الزام، کشیدگی میں اضافہ

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

خلائی اسٹیشن پر ہوا کے اخراج میں اچانک اضافہ، خلانوردوں کی ہنگامی کیپسول میں پناہ

بھارتی اعتراضات مسترد: گلگت بلتستان ہمارا داخلی معاملہ، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، پاکستان

پی آئی اے کا اسلام آباد سے بیجنگ براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کااعلان، تاریخ سامنے آگئی

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: سیاسی گہما گہمی عروج پر، عوام جمہوری عمل کے لیے پرجوش

بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار

اسلام آباد کے لیے جامع اصلاحاتی پیکیج تیار، دارالحکومت کا اپنا وزیراعلیٰ بھی زیر غور

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟