ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ چنا، امن و امان خراب کرنے پر کارروائی ہوگی، آزاد کشمیر حکومت

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے، جس سے خطے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے مسلسل مذاکرات، ریلیف اور عملی اقدامات کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ اپنائی، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک اور مکالمے کے بجائے دباؤ اور سڑکوں پر احتجاجی سیاست کو ترجیح دی ہے۔

مزید پڑھیں: 38 میں سے 36 مطالبات منظور پھر بھی احتجاج کیوں؟ ایکشن کمیٹی کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات بڑھنے لگے

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے 38 مطالبات میں سے 35 پر عمل درآمد اور اتفاق کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنا عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ضرور ہے، تاہم قانون کو ہاتھ میں لینے، راستے بند کرنے اور عام شہریوں کی زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو عوامی مطالبات کے نام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کو احتجاجی ماحول کے بجائے استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق اسمبلی اور ریاستی اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں کے دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر عوامی مفاد اور قانون کی عملداری کے لیے واضح اور مضبوط مؤقف رکھتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ 9 جون کو ریاستی نظام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کو عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تصور کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق عوام کو چاہیے کہ وہ بندشوں، ہڑتالوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی طریقہ کار پر اعتماد کریں۔

مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بات چیت کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا۔

آزاد کشمیر حکومت نے واضح کیا کہ خطے میں امن و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی زندگی کو یرغمال بنانے کی کسی بھی کوشش کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے روکا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق، چین میں ایمباپے کی اسپانسرشپ ختم

اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، انڈیکس میں 950 پوائنٹس سے زائد اضافہ

’اب تو عادی ہو چکا ہوں‘، ندا یاسر کی وائرل میمز پر یاسر نواز کا دلچسپ ردعمل

آن لائن بائیک رائیڈ کے دوران مبینہ ہراسانی، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

اسٹار ٹریک میں پاول چیخوف کا کردار ادا کرنے والے والٹر کوئنیگ چل بسے

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں