جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن نے آزاد کشمیر میں ایک بار پھر 9 جون کو احتجاج کی کال دے دی ہے۔ 38 میں سے قریباً 36 مطالبات منظور ہونے کے باوجود ایکشن کمیٹی مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں ختم کرنے پر بضد ہے، جبکہ سیاسی قیادت نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی جتھے کو مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ایکشن کمیٹی کو اپنی مقبولیت پر اتنا ہی ناز ہے تو انتخابات میں حصہ لیں اور جیت کر اپنی مرضی کی قانون سازی کرلیں، لیکن حکومت کو کسی صورت کسی پریشر گروپ سے بلیک میل نہیں ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال، سیاحوں کی واپسی شروع، سیاحتی صنعت کو نقصان کا خدشہ
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس سے قبل احتجاج کے ذریعے اپنے کئی مطالبات منوا چکی ہے، اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس بار عوام پہلے سے زیادہ تعداد میں نکلیں گے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ماہ کا راشن جمع کرلیں، احتجاج زیادہ وقت تک بھی چل سکتا ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ نے 9 جون کے احتجاج سے قبل ہی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے 5 جون 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ یقین ہے کہ مذکورہ تنظیم امن و امان اور ریاستی سلامتی کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے اہم نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا گیا، نوٹیفکیشن۔ محکمہ داخلہ کے مطابق کسی بھی تنظیم کو عوامی امن، سلامتی اور ریاستی نظم کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ pic.twitter.com/Nv8BNU43ZL
— Ammar Solangi (@fake_burster) June 5, 2026
’ماضی میں ایکشن کمیٹی کو ملنے والی کامیابیاں‘
مئی 2023 میں ہونے والے بڑے احتجاج میں عوامی ایکشن کمیٹی نے بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی جیسے بڑے مطالبات منوائے، جبکہ اس کے بعد گزشتہ برس 29 ستمبر کو ایک بار پھر احتجاج کیا اور 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پریش کیا۔
حکومت نے ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے 36 نکات پر اتفاق رائے کرکے زیادہ مطالبات پورے بھی کردیے ہیں تاہم حکمرانوں کی مراعات کے خاتمے اور مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے معاملے پر کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔

اس وقت آزاد کشمیر آٹا 2 ہزار روپے کا 40 کلو، جبکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 3 سے 7 روپے تک ہے، اور یہ سہولیات پورے ملک میں کہیں بھی عوام کو میسر نہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے عام انتخابات کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے، جس کے مطابق ریاست میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔
’الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد حکومت کے اختیارات ختم‘
الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد حکومت کے تمام تر اختیارات ختم ہوگئے ہیں، اور اب موجودہ اسمبلی کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی، جبکہ تقرر و تبادلوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے پیش نظر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت پاکستان سے مجموعی طور پر 14 ہزار نفوس پر مشتمل فورس طلب کی ہے، اور دستے آزاد کشمیر میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایکشن کمیٹی کے اس سے قبل ہونے والے مظاہروں میں ایک درجن سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی شامل ہیں۔
’سیاحوں کو آزاد کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت‘
ریاست میں افراتفری کے باعث حکومت آزاد کشمیر نے سیاحوں کو خطے کا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں موجود سیاحوں کو بھی فی الفور نکل جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس وقت آزاد کشمیر میں سیاحتی سیزن عروج پر ہے، چونکہ بعد میں مون سون شروع ہونے کے باعث سیاحوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لیکن ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث اس صنعت سے وابستہ افراد کو مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات ناگزیر، ایکشن کمیٹی پریشر گروپ کے بجائے تھنک ٹینک کا کردار ادا کرے، عامر محبوب
عامر محبوب سینیئر صحافی ہیں اور آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں انتخابی شیڈول کا جاری ہونا خوش آئند اور بروقت اقدام ہے، اور اس کا مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک مثبت پیغام جائےگا کہ جیسے بھی حالات ہوں آزاد کشمیر میں انتقال اقتدار بروقت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی آزاد کشمیر میں انتخابات ملتوی نہیں کیے گئے تھے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت کے وزیراعظم سردار سکندر حیات نے زلزلے کے بعد کہا تھا کہ ’میں قبرستان کا وزیراعظم ہوں‘ لیکن اس کے باوجود انتخابات مقررہ وقت پر ہوئے۔
ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے بروقت اقدام کیا ہے اور اب جمہوری قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
’آئینی معاملات صرف آئینی طریقے سے ہی حل ہو سکتے ہیں‘
عامر محبوب نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی حقوق کے حوالے سے جو بات کرتی ہے، اس کی ہر کوئی حمایت کرتا ہے۔ ایکشن کمیٹی کو ایک تھنک ٹینک کا کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم آئینی معاملات صرف آئینی طریقے سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور یہ اسمبلی کا استحقاق ہے۔
انہوں نے کہاکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہیے جس سے جمہوریت کا تسلسل متاثر ہو یا نظام ڈی ریل ہو۔
انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر سے جڑی ہوئی چیزوں کو نہیں چھیڑا جانا چاہیے، اگر ایکشن کمیٹی سمجھتی ہے کہ ان کو عوام میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ انتخابات میں حصہ لیں۔ معاملات دلیل اور مکالمے کے ذریعے حل ہونے چاہییں۔
عامر محبوب نے کہاکہ ریاست صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بلکہ اس میں مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں، تب جاکر یہ ایک وحدت بنتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب رائے شماری کی بات کی جاتی ہے تو مہاجرین بھی اس کا حصہ ہیں۔ مہاجرین تحریک آزادی کشمیر کا اہم حصہ ہیں، مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے بہت سے خاندان ایک نظریے کی بنیاد پر یہاں آئے تھے حالانکہ ان کے پاس وہاں پر اپنا بہت کچھ تھا، وہ یہاں مہاجر کیمپوں میں رہنے کے لیے نہیں بلکہ تحریک تکمیل پاکستان کی خاطر آئے، اور جب بھی رائے شماری ہوگی وہ اس میں حصہ لیں گے۔
انہوں نے کہاکہ بند گلی میں جانے کے بجائے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ ہمیں ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جن سے بھارت کو پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملے۔
عامر محبوب نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اسلاف کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان نفرتیں پیدا ہوں۔
انہوں نے کہاکہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہ چوہدری انوارالحق اور وقار نور کی حکومت نہیں بلکہ موجودہ حکومت کی نیت درست ہے اور وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
عامر محبوب نے کہاکہ انتخابات میں تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے، بروقت انتخابات نہ ہونے سے نظام ڈی ریل ہو سکتا ہے۔
’آزاد کشمیر کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے‘
انہوں نے کہاکہ 30 لاکھ آبادی کے اوپر آزاد کشمیر کو صدر، وزیراعظم، اسمبلی، سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور دیگر خود مختار ادارے حاصل ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ انہیں مزید بااختیار بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز حکومت پاکستان فراہم کرتی ہے۔ ریاست کے لوگ 3 سے 7 روپے فی یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہی بجلی 50 روپے سے زیادہ فی یونٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے دی جانے والی امداد کا تعلق آزاد کشمیر کے عوام کے ٹیکسوں سے نہیں، اس لیے عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔
’انا کو کبھی شعور پر غالب نہیں آنا چاہیے‘
انہوں نے کہاکہ انا کو کبھی شعور پر بھی غالب نہیں آنا چاہیے ورنہ بعض اوقات حاصل کی گئی کامیابیاں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کو سمجھنا چاہیے کہ جو کام ابھی نہیں ہو سکے، وہ وقت کے ساتھ ہو جائیں گے، اس لیے معاملات کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

عامر محبوب نے کہاکہ اگر مہاجرین کی 12 نشستیں ختم بھی کردی جائیں تو یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایکشن کمیٹی دوبارہ احتجاج نہیں کرےگی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوئے ہیں اور ضروری نہیں کہ مذاکرات جانوں کے ضیاع کے بعد ہی ہوں، اس لیے اسٹیل ہولڈرز کو ٹیبل پر بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ جون اور جولائی سیاحت کا پیک سیزن ہوتا ہے اور ہزاروں افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ اس وقت موجودہ حالات کی وجہ سے سیاحوں کو ریاست سے نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے ان تمام معاملات کو بالغ نظری کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت پاکستان بالغ نظری کا مظاہرہ کر رہی ہے، اسی طرح دیگر فریقین کو بھی سوچنا ہوگا۔
الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد کابینہ اجلاس میں ایڈہاک ملازمین کی مستقلی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر ایڈہاک ملازمین کی مستقلی آئینی اور قانونی خلاف ورزی نہیں تو اسے برقرار رہنے دینا چاہیے کیونکہ اس سے عام لوگوں کوفائدہ ہوگا۔
کسی جتھے کے کہنے پر مہاجرین کی سیٹیں ختم نہیں ہوں گی، جاوید اقبال ہاشمی
جاوید اقبال ہاشمی آزاد کشمیر کے سینیئر صحافی ہیں، اور ریاست کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں رہا، ریاست میں عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں ختم کرنے کا عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ غیر آئینی ہے، کسی بھی جتھے کے مطالبے پر آئین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔
جاوید ہاشمی نے کہاکہ حکومت نے اس اہم معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، جہاں سے اس معاملے پر رائے آ جائےگی تاہم یہ واضح ہے کہ کسی پریشر گروپ کی بات کو نہیں مانا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ اگر ایکشن کمیٹی سمجھتی ہے کہ وہ عوام میں اتنی مقبول ہے تو سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹرڈ ہو اور عام انتخابات میں حصہ لے۔
انہوں نے کہاکہ اس سے قبل ایکشن کمیٹی کو انوارالحق کی حکومت سہولت کاری کرتی تھی، تاہم اب پہلے والی صورت حال نہیں۔ اس بار کوئی احتجاجی مظاہرین کو یہاں نہیں پہنچنے دے گا۔
’ایڈہاک ملازمین کی مستقلی کا پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ نہیں پہنچے گا‘
الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ہونے والے کابینہ اجلاس میں ایڈہاک ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی اگر نیت ٹھیک ہوتی تو یہ کام پہلے بھی کیا جا سکتا تھا، لیکن الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد کابینہ کا یہ فیصلہ غیر آئینی اور غیرقانونی ہے، جس کا ان کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ 2021 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایڈہاک ملازمین کو مستقل کردیا تھا، تاہم اس کے بعد آنے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے ایڈہاک ایکٹ کو کالعدم کر دیا تھا، جو کسی صورت درست عمل نہیں تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کڑا مقابلہ ہوگا۔
الیکشن وقت پر ہوں گے، تمام مسائل مذاکرات سے حل ہونے چاہییں، خواجہ اے متین
سینیئر صحافی خواجہ اے متین نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آزاد کشمیر میں الیکشن شیڈول کے اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے ساتھ الیکشن ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ اس صورتحال سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ مذاکرات اور بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے اور یوں لگتا ہے کہ مذاکرات کا باب بند ہوگیا ہے۔
خواجہ اے متین نے کہاکہ پہلے بھی 2 سے 3 مرتبہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران ریاست نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اور ان کے مطالبات مانے گئے، تاہم اس بار صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اب آزاد کشمیر اسمبلی نے بھی قرارداد منظور کی ہے کہ مہاجرین کی نشستوں میں کمی یا تبدیلی کا معاملہ اسمبلی کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے فوری اور شفاف انتخابات کے حق میں مؤقف دیا ہے اور نشستوں کے حوالے سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ مینڈیٹ اسمبلی کا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جتھوں کے دباؤ پر فیصلے نہیں کیے جا سکتے، اگر فورسز کی تعیناتی اور سیکیورٹی اقدامات بڑھائے جا رہے ہیں تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست پہلے کی نسبت زیادہ سخت مؤقف اختیار کر سکتی ہے، اور بعض لوگوں کو آپریشن جیسے خدشات بھی محسوس ہو رہے ہیں۔

خواجہ اے متین نے کہاکہ سیاحوں کو بھی 5 جون کے بعد آزاد کشمیر کا رخ کرنے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے، جس سے معیشت پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ریاست اب اس صورتحال کو طاقت کے ذریعے بھی کنٹرول کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں بھی ماضی میں سخت نظریات رکھنے والی جماعتوں کے خلاف ریاستی کارروائیاں ہوئیں اور بالآخر انہیں کنٹرول کیا گیا۔
’معاملات کو افہام و تفہیم سے ہی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘
تاہم خواجہ متین نے کہاکہ بطور صحافی ان کی رائے ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے اور حکمت و دانش کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے بعض اقدامات اور آل پارٹیز کانفرنس کے بائیکاٹ کے باعث صورتحال بند گلی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے شیڈول جاری کرکے بروقت اقدام کیا ہے، الیکشن ہر صورت بروقت ہونے چاہییں۔













