سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
عدالت نے تمام فریقین اور عدالتی معاونین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد صدر آزاد کشمیر کو اپنی آئینی رائے سے آگاہ کرنے کے لیے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار، اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد،ترجمان پولیس آزاد کشمیر
چیف جسٹس راجا سعید اکرم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی بینچ کا حصہ تھے۔
جسٹس رضا علی خان ماضی میں اس معاملے سے متعلق مقدمات میں بطور وکیل پیش ہونے کے باعث سماعت میں شریک نہیں ہوئے۔
عدالت نے صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے مختلف آئینی سوالات پر عدالتی معاونین اور فریقین کے تفصیلی دلائل سنے۔
سماعت کے دوران مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کی آئینی حیثیت، ان کے مستقبل اور قانون ساز اسمبلی کے اختیارات سے متعلق مختلف قانونی نکات زیر بحث آئے۔
سینیئر قانون دان راجا سجاد احمد خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 33 کے تحت قانون ساز اسمبلی کو مکمل قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ارکان اسمبلی پہلے ہی مہاجرین نشستوں کے معاملے پر اپنی رائے واضح کر چکے ہیں۔
معاونِ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ مہاجرین نشستوں کا معاملہ ہائی پاور کمیٹی میں زیر غور لایا جانا چاہیے تھا۔ سماعت کے دوران وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق نے بھی مختلف قانونی نکات پر اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے۔
سماعت کے دوران سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان اور رکن اسمبلی عبدالماجد خان بھی عدالت میں موجود رہے۔
عدالت نے اس سوال کا تفصیلی جائزہ لیا کہ آیا مہاجرین کی 12 نشستیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم یا تبدیل کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ قانون ساز اسمبلی کے آئینی ترمیم کے اختیار اور اس کی حدود پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔
عدالت نے انتخابات روکنے یا آئینی ترمیم کے لیے دباؤ ڈالنے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی مختلف فریقین سے رائے طلب کی۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجا آفتاب، صدر سنٹرل بار راجا ضیغم افتخار اور صدر ہائیکورٹ بار راجا جہانگیر اسلم بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔
اس کے علاوہ سابق ایڈیشنل سیکریٹری فرحت علی میر، خواجہ منظور قادر اور ایم تنویر چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی عدالت کے سامنے اپنے قانونی مؤقف پیش کیے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال، الیکشن شیڈول بھی جاری، ریاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟
سماعت کے دوران مہاجرین مقیم آزاد کشمیر 1989 کے نمائندوں نے قانون ساز اسمبلی میں اپنی علیحدہ نشست مختص کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا۔
تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ صدر آزاد کشمیر کو اپنی آئینی رائے سے آگاہ کیا جائے گا۔














