وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے اکتوبر 2025 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد کر دیا ہے، جبکہ آئینی نوعیت کے معاملات، خصوصاً 12 مہاجرین نشستوں سے متعلق مطالبات احتجاج کے بجائے انتخابی اور قانون سازی کے عمل کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت بیشتر نکات پر پیشرفت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ 177 مقدمات (ایف آئی آرز) واپس لیے جا چکے ہیں، متاثرین کو معاوضے ادا کیے گئے ہیں اور انتظامی سطح پر متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔
ان کے مطابق 12 مہاجرین نشستوں جیسے آئینی معاملات کا حل احتجاج یا سڑکوں پر آنے میں نہیں بلکہ انتخابی اور قانون سازی کے عمل میں موجود ہے۔
38 مطالبات میں سے 19 مکمل، باقی پر عملدرآمد جاری
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 19 مطالبات ایسے تھے جنہیں انتظامی احکامات کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا اور ان پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ باقی مطالبات کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہیں، جن میں سے بعض کے لیے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر کے لیے فنڈز کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔
لانگ مارچ مقدمات واپس، متاثرین کو معاوضے ادا
طارق فضل چوہدری کے مطابق لانگ مارچ سے متعلق قریباً 170 ایف آئی آرز واپس لی جا چکی ہیں۔ تمام متاثرہ افراد کو معاوضے ادا کیے گئے ہیں، جن میں زخمی افراد، جاں بحق مظاہرین کے لواحقین اور شہید یا متاثر ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خاندان بھی شامل ہیں۔
گندم، تعلیم اور ٹیکس سے متعلق مطالبات پر پیش رفت
انہوں نے کہا کہ گندم کی فراہمی اور معیار سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے تمام پروفیشنل کالجز میں اوپن میرٹ داخلوں کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ٹیکس سے متعلق تمام مطالبات پورے کیے جا چکے ہیں، جبکہ پونچھ اور مظفرآباد کے تعلیمی بورڈز سے متعلق فیصلوں کی منظوری دے کر ان پر عملدرآمد بھی کر دیا گیا ہے۔
کابینہ کے حجم میں کمی، احتساب قانون میں اصلاحات
وفاقی وزیر نے کہاکہ معاہدے کے مطابق کابینہ کے محکموں اور عہدوں کی تعداد 36 سے کم کر کے 22 کردی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ احتساب کے قانون میں بھی پاکستان کے نیب فریم ورک کے مطابق اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ احتسابی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی، ہیلتھ کارڈ اور بجلی منصوبوں کے لیے اقدامات
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق امور کے لیے ایک نئی کمپنی قائم کی گئی ہے اور اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تقرر بھی کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ عملی طور پر کام کررہا ہے، جبکہ بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھی فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔
صرف تین مطالبات پورے ہونے کا دعویٰ درست نہیں
انہوں نے واضح کیاکہ یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت نے صرف تین مطالبات منظور کیے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر مطالبات یا تو مکمل کیے جا چکے ہیں یا ان پر عملدرآمد کے لیے فنڈز فراہم کر دیے گئے ہیں اور کام جاری ہے۔














