ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ہفتہ 6 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے اکتوبر 2025 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد کر دیا ہے، جبکہ آئینی نوعیت کے معاملات، خصوصاً 12 مہاجرین نشستوں سے متعلق مطالبات احتجاج کے بجائے انتخابی اور قانون سازی کے عمل کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت بیشتر نکات پر پیشرفت کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ 177 مقدمات (ایف آئی آرز) واپس لیے جا چکے ہیں، متاثرین کو معاوضے ادا کیے گئے ہیں اور انتظامی سطح پر متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔

ان کے مطابق 12 مہاجرین نشستوں جیسے آئینی معاملات کا حل احتجاج یا سڑکوں پر آنے میں نہیں بلکہ انتخابی اور قانون سازی کے عمل میں موجود ہے۔

38 مطالبات میں سے 19 مکمل، باقی پر عملدرآمد جاری

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 19 مطالبات ایسے تھے جنہیں انتظامی احکامات کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا اور ان پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ باقی مطالبات کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہیں، جن میں سے بعض کے لیے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر کے لیے فنڈز کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔

لانگ مارچ مقدمات واپس، متاثرین کو معاوضے ادا

طارق فضل چوہدری کے مطابق لانگ مارچ سے متعلق قریباً 170 ایف آئی آرز واپس لی جا چکی ہیں۔ تمام متاثرہ افراد کو معاوضے ادا کیے گئے ہیں، جن میں زخمی افراد، جاں بحق مظاہرین کے لواحقین اور شہید یا متاثر ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خاندان بھی شامل ہیں۔

گندم، تعلیم اور ٹیکس سے متعلق مطالبات پر پیش رفت

انہوں نے کہا کہ گندم کی فراہمی اور معیار سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے تمام پروفیشنل کالجز میں اوپن میرٹ داخلوں کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ٹیکس سے متعلق تمام مطالبات پورے کیے جا چکے ہیں، جبکہ پونچھ اور مظفرآباد کے تعلیمی بورڈز سے متعلق فیصلوں کی منظوری دے کر ان پر عملدرآمد بھی کر دیا گیا ہے۔

کابینہ کے حجم میں کمی، احتساب قانون میں اصلاحات

وفاقی وزیر نے کہاکہ معاہدے کے مطابق کابینہ کے محکموں اور عہدوں کی تعداد 36 سے کم کر کے 22 کردی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ احتساب کے قانون میں بھی پاکستان کے نیب فریم ورک کے مطابق اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ احتسابی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی، ہیلتھ کارڈ اور بجلی منصوبوں کے لیے اقدامات

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق امور کے لیے ایک نئی کمپنی قائم کی گئی ہے اور اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تقرر بھی کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ عملی طور پر کام کررہا ہے، جبکہ بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھی فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔

صرف تین مطالبات پورے ہونے کا دعویٰ درست نہیں

انہوں نے واضح کیاکہ یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت نے صرف تین مطالبات منظور کیے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر مطالبات یا تو مکمل کیے جا چکے ہیں یا ان پر عملدرآمد کے لیے فنڈز فراہم کر دیے گئے ہیں اور کام جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کیس کا عبوری چالان جمع، تفتیش تاحال جاری

کشمیری مہاجرین کی اسمبلی نشستیں ختم کردیں تو بھارت اور ہم میں کیا فرق رہ جاتا ہے، رانا ثنااللہ

وسائل کی قلت: غزہ کے ماہی گیر ملبے سے ملنے والے دروازوں کے فریموں سے کشتیاں مرمت کرنے پر مجبور

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے