بلوچستان میں حالیہ برسوں میں بیرونی مداخلت اور سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جس طرح 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ کے نام سے بلوچستان اور پاکستان کے خلاف فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے قائم کیے گئے تھے، جو مبینہ طور پر بھارت کے ایما اور فنڈنگ سے پاکستان کو بدنام کرنے میں مصروف رہے، اسی طرح اب بلوچ کے نام پر کچھ نئے فرضی بھارتی ادارے بھی سامنے لائے گئے ہیں۔
بھارت کی فنڈنگ پر چلنے والی ایچ آر سی بی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں لاپتا افراد کا ذکر کیا گیا ہے اور مبینہ طور پر جھوٹے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔
سب سے بڑا سوال اس رپورٹ کی کریڈیبیلٹی پر اٹھایا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کی زیادہ تر لاپتا افراد کی فہرست انہی بلوچ یوتھ کمیٹی (بی وائی سی) سے جڑے نیٹ ورک سے آتی ہے، جو پہلے سوشل میڈیا پر افراد کو جبری گمشدہ قرار دیتے ہیں، اور پھر ایچ آر سی بی انہی دعووں کو بغیر آزادانہ تصدیق اپنی رپورٹ میں شامل کر لیتا ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ کوئی تحقیق نہیں بلکہ ایک ’ایکو چیمبر‘ طرز کا طریقہ کار ہے، جس میں پہلے ایک دعویٰ کیا جاتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اسے پھیلایا جاتا ہے، بعد ازاں اسی کو رپورٹ میں شامل کر کے بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جاتا ہے، اور بعد میں حقائق مختلف نکلتے ہیں۔


اس حوالے سے سالم بلوچ کی مثال بھی دی جاتی ہے، جسے بی وائی سی اور ایچ آر سی بی نے لاپتا قرار دیا تھا، تاہم بعد میں خود بی ایل اے نے اسے اپنا رکن اور دہشتگرد قرار دے کر اس حوالے سے دعویٰ کیا۔ اسی طرح خیر النسا کے کیس کو بھی جبری گمشدگی کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن بعد میں سیکیورٹی اداروں نے اسے بی ایل اے کے خودکش حملہ نیٹ ورک سے بازیاب کرایا۔
رحیمہ بی بی، سفیان کرد اور صہیب لانگو جیسے نام بھی اسی بی وائی سی اور ایچ آر سی بی نیٹ ورک کے ذریعے بڑے بیانیے کا حصہ بنا کر پیش کیے گئے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بار بار انہی دعووں کی حقیقت بعد میں مختلف نکلتی ہے تو پھر ان دعووں پر آنکھ بند کر کے اعتماد کیوں کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ، مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
ناقدین کے مطابق ایچ آر سی بی خود کو غیر جانبدار ادارہ قرار نہیں دے سکتا، کیونکہ اس کی رپورٹس کی بنیاد بھی مبینہ طور پر انہی بی وائی سی کے فراہم کردہ ڈیٹا پر کھڑی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ وہی نیٹ ورک ہے جو ریاست کے خلاف الزامات پر فوری طور پر شور مچاتا ہے، لیکن جب دہشتگردی سے متعلق روابط سامنے آتے ہیں تو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔

مزید یہ کہ ایچ آر سی بی اپنی رپورٹس میں ان حقیقی متاثرین کا ذکر بھی نہیں کرتا جو دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ چمن پھاٹک حملے کے متاثرین، مچھ میں قتل کیے گئے مزدور، گاڑیوں سے اتار کر مارے گئے مسافر، اور وہ سادہ لوح محنت کش جن کی زندگیاں مبینہ طور پر بی ایل اے کے حملوں میں ختم ہوئیں، وہ خاندان جو دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سے متاثر ہوئے—ان کے حقوق بھی انتہائی اہم ہیں۔
آخر میں سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی رپورٹ صرف ایک رخ دکھائے اور دوسرے رخ کو مکمل طور پر نظر انداز کرے تو وہ انسانی حقوق کی رپورٹ نہیں رہتی بلکہ ایک یکطرفہ بیانیہ یا پروپیگنڈا بن جاتی ہے۔














