آئینی معاملات پر دباؤ کی سیاست مسترد،سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس 1 (2026ء) پر دی گئی آئینی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کرتے ہوئے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ آئینی تبدیلیاں سڑکوں کے دباؤ یا احتجاجی سیاست کے ذریعے نہیں بلکہ صرف آئینی طریقۂ کار کے تحت ہی ممکن ہیں۔ عدالتی رائے کے بعد اس معاملے پر جاری سیاسی بحث میں اہم آئینی وضاحت سامنے آگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

تفصیلات کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46-A کے تحت یہ صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ کو ارسال کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے۔

عدالتی رائے کے مطابق مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے، جس کے لیے عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مکمل آئینی طریقہ کار کی پیروی ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں یہ بھی واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں فیصلہ کن قوت سڑکوں پر ہونے والا احتجاج نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے۔ عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی نوعیت کے معاملات منتخب اسمبلی کے دائرہ اختیار میں رکھے جائیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی قسم کا احتجاج یا سیاسی تنازع اس آئینی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ عدالت نے آرٹیکل 22(3) اور 22(4) کی تشریح کرتے ہوئے اسمبلی کے اختیارات اور مدت کو بھی واضح کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، دباؤ ڈالنا یا معمولاتِ زندگی میں خلل ڈالنا آئینی تحفظ کے زمرے میں نہیں آتا۔

عدالتی رائے میں مزید کہا گیا کہ کسی ایک فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

ماہرین کے مطابق اس عدالتی رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ آئینی تبدیلی کا راستہ اسمبلی اور ووٹ ہے، نہ کہ دباؤ یا محاذ آرائی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق باقی ماندہ دو اہم مطالبات پر حکومت کا مؤقف بھی آئینی طور پر درست ثابت ہوا ہے، جبکہ آئینی مسائل کا حل صرف طے شدہ قانونی اور پارلیمانی طریقۂ کار سے ہی ممکن ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی اس رائے نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاستی امن و استحکام کے مؤقف کو مزید تقویت دی ہے، جو مستقبل میں آئینی و سیاسی تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں