پاکستان شوبز انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے کوئٹہ کے اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے وحشیانہ واقعے پر گہری برہمی اور شدید دکھ کا اظہار کیا ہے۔
اداکارہ نے اپنی انسٹا اسٹوری پر اس ہولناک واقعے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ایک خاتون دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسپتال گئی اور کسی نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ناکام عاشق خود کو مارکر تاریخ میں نام کرلیتا، تیزاب گردی کیس میں جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس
انہوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ وہ اس ہولناک صورتحال کا تصور بھی نہیں کرسکتیں کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر اسپتال کے اندر حملہ کیا گیا، یہ ایک انتہائی وحشیانہ عمل اور برائی ہے جس پر ان کا پورا وجود غصے سے کانپ رہا ہے۔
ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ یہ عورت مکمل حفاظت کی مستحق ہے، اس ظالم شخص نے خاتون ڈاکٹر کو تقریباً زندہ جلا دیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے پاس ایک ڈاکٹر کی زندگی کو تباہ کرنے کا حق ہے۔
انہوں نے معاشرے پر زور دیتے ہوئے مزید لکھا کہ یہ وقت صرف خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہے کہ وہ اس درندگی کے خلاف اٹھیں، بولیں، اپنی آواز بلند کریں اور غصے کا اظہار کریں۔
تیزاب گردی کے خلاف کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز سراپا احتجاج
اس ہولناک تیزاب گردی کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی۔
مظاہرین نے سول ہسپتال میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری صحت بلوچستان، ایم ایس اور سیکیورٹی انچارج سول ہسپتال کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تیزاب گردی کی روک تھام کے لیے ‘ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025’ کا ڈرافٹ منظور
وائی ڈی اے کے رہنماؤں ڈاکٹر مزمل اور ڈاکٹر شفاء مینگل کا کہنا تھا کہ اسپتال کے اندر ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا یہ پہلا واقعہ ہے اور دورانِ سروس ڈاکٹر پر حملہ پوری ڈاکٹر کمیونٹی پر حملہ تصور کیا جائے گا، اس لیے نااہل سیکرٹری صحت کو فوری طور پر برطرف کر کے واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں، اور جب تک برطرفی نہیں ہوتی یہ احتجاج جاری رہے گا۔
خاتون کی حالت کیسی ہے؟
دوسری جانب، کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں تیزاب گردی کا شکار ہونے والی متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو کوئٹہ میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی اور مقامی نجی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد، اب بہتر علاج اور طبی سہولیات کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق ری کنسٹرکٹیو سرجن اور ماہرِ چشم نے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل کر لیا ہے اور انہیں اسپیشل کیئر یونٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹرز نے مریضہ کے ابتدائی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں جن کے مطابق ان کی حالت فی الحال تسلی بخش اور خطرے سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: تیزاب گردی میں ملوث خاتون ساتھیوں سمیت گرفتار
طبی رپورٹ کے مطابق تیزاب کے حملے سے خاتون ڈاکٹر کا جسم مجموعی طور پر 13 فیصد جھلسا ہے، جس میں ان کے چہرے، پیٹ، ٹانگ اور دائیں ہاتھ پر جلنے کے زخم موجود ہیں۔
حملے کے دوران خاتون ڈاکٹر کی آنکھیں بھی متاثر ہوئی ہیں، تاہم خوش قسمتی سے ان کی بینائی بالکل ٹھیک اور محفوظ ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی ٹیسٹوں کے بعد اگلے 24 گھنٹوں میں متاثرہ خاتون ڈاکٹر کا دوبارہ تفصیلی طبی معائنہ کیا جائے گا تاکہ ان کے زخموں کی نوعیت کے مطابق اگلا طریقہ علاج طے کیا جا سکے۔














