پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا ملوّث ہونا کوئی نئی بات نہیں اور اِسی تناظر میں پاکستان نے اس سال 21 فروری کو افغانستان میں فضائی حملے شروع کیے جس کے بعد وقتاً فوقتاً سرحد پر شدید جھڑپیں بھی ہوتی رہیں، اور 16 مارچ کو افغانستان نے دعوٰی کیاکہ پاکستان نے نشے کے عادی افراد کے علاج کے مرکز پر حملے کیے جس کے لیے وہ خاطر خواہ ثبوت فراہم نہ کر سکے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث افغان عوام شدید مُشکلات کا شکار ہیں۔ یورپی یونین اور علاقائی طاقتیں بشمول چین اور روس اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔
مزید پڑھیں: دفتر خارجہ کی ارومچی میں پاک افغان ورکنگ لیول مذاکرات کی تصدیق
مسئلے کے حل کے لیے ٹریک ٹو یا غیر رسمی مذاکرات کا ایک دور استنبول میں ہوا اور دوسرا دور اگلے ہفتے متوقع ہے۔
باضابطہ مذاکرات کا اسٹیٹس کیا ہے؟
پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی باضابطہ مذاکرات آخری دفعہ اس سال اپریل میں چین کے شہر ارومچی میں ہوئے اور اُس سے قبل اگست 2025 میں ہوئے تھے۔ اگست 2025 کے بعد اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید فوجی جھڑپیں ہوئیں اور اُس کے بعد اس سال فروری اور مارچ میں ایک بار پھر شدید فوجی کشیدگی ہوئی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدیں اور تجارت گزشتہ برس اکتوبر سے ہی بند ہے جس کی وجہ سے افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
16 اپریل کو چین کے شہر ارومچی میں چین کی میزبانی میں دونوں ممالک کے مُذاکرات ہوئے جہاں پاکستان کی جانب سے کچھ شرائط پیش کی گئیں کہ افغان طالبان حکومت دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائیاں کرے۔
افغان اُمور سے آگاہی رکھنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اب پاکستان حکومت منتظر ہے کہ افغانستان کی حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کیا کارروائیاں کرتی ہے۔ جس کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائےگا۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹریک ٹو یا غیر رسمی بات چیت کا ایک دور حال ہی میں استنبول میں ہوا جس میں پاکستان سے غیر سرکاری سفارتی ماہرین نے شرکت کی اور ذرائع کے مطابق ایسا ایک اور دور اگلے ہفتے متوقع ہے۔
یورپی یونین اور علاقائی طاقتوں کی دلچسپی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں فوجی کشیدگی، سفارتی رابطے، علاقائی طاقتوں کی مداخلت اور معاشی مجبوریوں نے مل کر ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ چین، یورپی یونین اور روس سمیت بین الاقوامی کھلاڑی اس بحران کے حل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
اپریل 2026 میں چین کی ثالثی میں ہونے والے ارومچی مذاکرات نے اگرچہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا لیکن کیا پاکستان اور افغانستان واقعی مفاہمت کی طرف بڑھ رہے ہیں یا صرف ایک عارضی سفارتی وقفہ چل رہا ہے؟
یکم جون کو یورپی یونین کی نائب صدر اور خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اسلام آباد میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے کہاکہ فضائی حملوں کے بجائے سیاسی مکالمہ بہتر راستہ ہے اور حالیہ جھڑپوں کے انسانی نتائج تشویشناک ہیں۔ پاکستان نے جواب میں واضح کیاکہ وہ دہشتگردی کا شکار ملک ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ارومچی مذاکرات میں کیا ہوا؟
یکم تا سات اپریل 2026 چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہوئے جن کی میزبانی بیجنگ نے کی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد فروری میں ہونے والی شدید سرحدی کشیدگی کے بعد رابطے بحال کرنا اور ایسے اقدامات پر اتفاق کرنا تھا جو مزید تصادم کو روک سکیں۔
اگرچہ کوئی باضابطہ امن معاہدہ سامنے نہیں آیا، لیکن دونوں ممالک نے کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز، سفارتی رابطے جاری رکھنے اور دہشتگردی سمیت تنازعات کے حل کے لیے مذاکراتی عمل برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ارومچی عمل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ دونوں ممالک دوبارہ بات چیت پر آمادہ ہوئے، لیکن سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ دہشتگردی اور سرحدی سلامتی کے بنیادی مسائل حل نہ ہو سکے۔
مذاکرات ہاں، دہشتگردی نہیں
4 جون کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیاکہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے، صرف ایک بنیادی شرط ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیاں افغانستان سے جاری ہیں اور جب تک کابل ان کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائیاں نہیں کرتا، اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔
طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان افغانستان کے عوام کو برادر سمجھتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی، نسلی اور لسانی رشتے موجود ہیں، لیکن پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ فوجی کشیدگی کی صورتحال
اگرچہ فروری 2026 جیسی شدید فوجی جھڑپیں اس وقت نہیں ہو رہیں، لیکن پاکستان کی جانب سے متعدد مقامات پر اضافی نفری تعینات ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر بداعتمادی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد حملے اب بھی ایک خطرہ ہیں جبکہ کابل پاکستانی فضائی کارروائیوں اور سرحدی اقدامات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں دونوں ممالک جنگ کی حالت میں نہیں لیکن مکمل امن کی حالت میں بھی نہیں۔ موجودہ صورتحال کو مسلح کشیدگی کے ساتھ جاری سفارت کاری کہا جا سکتا ہے۔
روس افغانستان دفاعی معاہدہ: ایک نئی پیش رفت
ارومچی مذاکرات کے چند ہفتے بعد ایک نئی پیش رفت سامنے آئی جب 27 مئی 2026 کو ماسکو میں روس اور افغانستان کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔
اس معاہدے پر روسی سلامتی کونسل کے سربراہ سرگئی شوئیگو اور افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے دستخط کیے۔ اگرچہ مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، لیکن اسے اہم عسکری تعاون کے فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
معاہدے کے بعد افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کہاکہ افغانستان روس کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور معاہدے پر جلد عملی پیش رفت ہوگی۔
ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ افغانستان کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہے۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق افغانستان چین، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون بڑھا کر اپنے آپ کو ایک مستحکم اور خودمختار ریاست کے طور پر عالمی نظام میں دوبارہ شامل کرنا چاہتا ہے۔
کابل کا مؤقف ہے کہ روس کے ساتھ تعاون کسی بلاک سیاست کا حصہ نہیں بلکہ سلامتی، تجارت اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے ہے۔
روس اس معاہدے کو کیسے دیکھتا ہے؟
روس کے نزدیک افغانستان کے ساتھ دفاعی تعاون صرف فوجی تعلقات نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سرگئی شوئیگو کے مطابق ماسکو طالبان حکومت کے ساتھ مکمل شراکت داری قائم کر رہا ہے۔ روس سمجھتا ہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنے کے بجائے علاقائی نظام کا حصہ بنانا زیادہ مفید ہے۔
یہاں اہم بات یہ ہے کہ روس داعش خراسان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو وسط ایشیا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اسی لیے کابل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بڑھا رہا ہے۔
ایران جنگ اور افغانستان کی معاشی مشکلات
افغانستان کی مشکلات صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں، پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد طالبان حکومت نے اپنی تجارت کا بڑا حصہ ایران کی بندرگاہوں خصوصاً چاہ بہار اور بندر عباس کی طرف منتقل کردیا تھا تاکہ کراچی اور پاکستانی زمینی راستوں پر انحصار کم کیا جا سکے، لیکن ایران امریکا جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے اس حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچایا۔
افغان تاجروں کو سامان کی ترسیل میں تاخیر، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوئے۔
افغان عوام سب سے بڑا فریق
اس پوری کشمکش کی سب سے بڑی قیمت عام افغان عوام ادا کر رہے ہیں۔ افغانستان پہلے ہی غربت، بے روزگاری، خوراک کی قلت اور بین الاقوامی امداد میں کمی کا شکار ہے۔ سرحدی جھڑپوں، تجارتی رکاوٹوں اور مہاجرین کی واپسی نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی: پاکستان کی فوجی طاقت کے مقابلے میں کابل کے پاس کونسے آپشنز باقی ہیں؟
سرحدی علاقوں میں ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے، تجارت متاثر ہوئی اور روزگار کے مواقع کم ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے واپس آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کی آبادکاری بھی طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔












