مہاجرین کی نشستیں کشمیر کاز کی علامت، ختم کرنے کا مطالبہ کیوں؟ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صحافی طیب بلوچ نے آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ دراصل مسئلہ کشمیر کی نمائندگی کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اور آزاد کشمیر کے عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر اور بیانیوں کا خود جائزہ لیں۔

مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کے کردار پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر، کالعدم ایکشن کمیٹی کے گرد گھیرا تنگ، مرکزی دفتر سیل کردیا گیا

ایک ولاگ میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات سے قبل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پورے پاکستان میں سب سے اہم اور حساس معاملہ آزاد کشمیر کی صورتحال ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، 9 جون کو کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے جبکہ 27 جولائی کو پولنگ ہوگی۔

ان کے مطابق یہ ایک جمہوری عمل اور جمہوری تسلسل ہے جس کے تحت عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے، تاہم اس جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک عنصر متحرک دکھائی دے رہا ہے۔

طیب بلوچ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک تحریک سامنے آئی جسے عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کی کوشش کی، تو اسی عرصے کے بعد آزاد کشمیر میں بھی بعض سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ مختلف لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات حاصل نہیں، جس کے نتیجے میں احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پھر مختلف اوقات میں ہڑتالیں اور احتجاج ہوئے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔

طیب بلوچ نے کہا کہ بعد ازاں حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قومی قیادت شامل تھی۔ اس کمیٹی نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے جن کے نتیجے میں 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ معاملات میں سب سے زیادہ تنازع مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر سامنے آیا۔

انہوں نے کہاکہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کل 45 نشستیں ہیں جن میں سے 12 نشستیں ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔

طیب بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ نشستیں صرف نمائندگی نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی علامتی نمائندگی بھی ہیں۔

ان کے بقول آزاد جموں و کشمیر کا آئینی اور تاریخی تصور پورے جموں و کشمیر کی نمائندگی پر مبنی ہے، اسی لیے مہاجرین کی نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

انہوں نے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور بھارتی قیادت کے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

ان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

طیب بلوچ نے کہاکہ اگر کسی گروہ کے سیاسی مطالبات ہیں تو اسے جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے اور عوامی حمایت حاصل کرنی چاہیے، جبکہ انتشار اور احتجاج کو مستقل حل نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے آزاد کشمیر کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر سے مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں وفاقی حکومت خطے کے اخراجات کے لیے قریباً 230 ارب روپے فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ تقریباً 300 ارب روپے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بجلی اور آٹا رعایتی نرخوں پر فراہم کیے جارہے ہیں اور اگر ان کا موازنہ مقبوضہ کشمیر یا پاکستان کے دیگر صوبوں سے کیا جائے تو متعدد شعبوں میں آزاد کشمیر کے عوام بہتر سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کی حقیقت کھلنے لگی، بھارت کے ساتھ تعلق ثابت، عام آدمی کو استعمال کیا جانے لگا

طیب بلوچ نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کے مؤقف کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

طیب بلوچ کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام کو انتشار اور تصادم کی سیاست کے بجائے جمہوری عمل، انتخابات اور سیاسی مکالمے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور مسئلہ کشمیر کی نمائندگی بھی مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب