اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس میں 1600 سے زائد پوائنٹس کی کمی

پیر 8 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج فروخت کے شدید دباؤ کی زد میں رہی۔

کاروبار کے ابتدائی لمحات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,600 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

صبح ساڑھے 11 بجے کے قریب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,575.39 پوائنٹس یعنی 0.92 فیصد کمی کے بعد 168,903.55 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج پر فروخت کا دباؤ برقرار، منفی زون میں ٹریڈنگ جاری

مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سیکٹر میں نمایاں رہا۔

اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک جیسے انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

گزشتہ ہفتے بھی امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا تھا، جس کے باعث خطے کے استحکام اور تیل کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق خدشات نے بیشتر شعبوں میں محتاط سرمایہ کاری کا رجحان پیدا کیا۔

نتیجتاً کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 2 فیصد یعنی 3,483.87 پوائنٹس کمی کے بعد 170,478.94 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید فروخت ہوئی کیونکہ سرمایہ کار مصنوعی ذہانت سے وابستہ حصص سے نکلنے لگے۔

مزید پڑھیں: عید کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کمی

مارکیٹ میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ حالیہ تیزی ضرورت سے زیادہ اور بہت تیزی سے آئی ہے، جبکہ ایران میں نئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی سرمایہ کاروں کی تشویش کا سبب بنا۔

مارکیٹ میں مندی کی دو بڑی وجوہات گزشتہ ہفتے چپ ساز کمپنی براڈکام کی مایوس کن کاروباری پیش گوئی اور جمعہ کو جاری ہونے والی امریکا کی توقعات سے بہتر روزگار رپورٹ قرار دی جا رہی ہیں۔

جس کے بعد سرمایہ کاروں نے رواں سال شرح سود میں اضافے کے امکانات کو دوبارہ قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔

جنوبی کوریا کا ٹیکنالوجی اور چپ ساز کمپنیوں پر مشتمل کوسپی انڈیکس، جو رواں سال دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ رہا ہے، 5 فیصد گر گیا، جبکہ یہ انڈیکس گزشتہ ہفتے کی ریکارڈ بلند سطح سے اب تک 13 فیصد نیچے آ چکا ہے۔

جاپان کا نکی انڈیکس تقریباً 4 فیصد گر گیا جبکہ کمپیوٹر چپ سپلائی چین سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرزمیں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس بھی 3.9 فیصد نیچے آ گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp