دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں ٹن خوراکی باقیات ضائع ہو جاتی ہیں لیکن اب سائنسدان اور فوڈ ٹیکنالوجی کمپنیاں اسی فضلے کو جدید حیاتیاتی عمل ’فرمنٹیشن‘ کے ذریعے مفید اور لذیذ غذاؤں میں تبدیل کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عید پر گوشت کا استعمال اور صحت کا خیال کیسے رکھاجائے؟ ماہرِ غذائیت نے مشکل آسان کردی
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف خوراک کے ضیاع میں کمی لا سکتی ہے بلکہ ماحول دوست اور کم لاگت متبادل غذائیں بھی فراہم کر سکتی ہے۔
امریکا کی اسٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ بایو انجینیئر وائیو ہل مینی اور ان کی ٹیم نے خوراکی باقیات یا فضلے سے ایسا نیا پنیر تیار کیا ہے جو ذائقے اور ساخت میں ’پیکورینو‘ اور ’پارمیجیانو‘ پنیر سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ پنیر فنگس پر مبنی فرمنٹیشن کے ذریعے تیار کیا گیا جس میں خوراکی فضلے کو مخصوص اجزا کے ساتھ ملا کر ایک نئی غذائی مصنوعات میں تبدیل کیا گیا۔
فرمنٹیشن ایک حیاتیاتی عمل ہے جس میں خرد جاندار آکسیجن کے بغیر شکر یا نشاستے کو مختلف مفید مرکبات میں تبدیل کرتے ہیں۔ روایتی طور پر یہ عمل روٹی، دہی اور مشروبات کی تیاری میں استعمال ہوتا رہا ہے تاہم جدید بایو ٹیکنالوجی نے اس کے استعمال کو کہیں زیادہ وسیع بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد
برطانیہ کی کمپنی ’فرم ٹیک‘ کوکو کے چھلکوں کو جو عموماً ضائع کر دیے جاتے ہیں فرمنٹیشن کے ذریعے کوکو پاؤڈر کے متبادل میں تبدیل کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق کوکو کے چھلکوں میں پہلے ہی چاکلیٹ جیسی خوشبو اور ذائقہ موجود ہوتا ہے جسے جدید حیاتیاتی عمل کے ذریعے انسانی استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح اسپین کی کمپنی ایم او اے فوڈ ٹیک مصنوعی ذہانت اور فرمنٹیشن کی مدد سے مٹر سے پروٹین نکالنے کے بعد بچ جانے والے نشاستے اور فائبر کو دوبارہ انسانی خوراک کا حصہ بنانے پر کام کر رہی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بوسکو ایمپارانزا کے مطابق مصنوعی ذہانت اب ایک گھنٹے میں سیکڑوں حیاتیاتی عمل ڈیزائن کر سکتی ہے جو چند سال قبل ہفتوں میں مکمل ہوتے تھے۔
مزید پڑھیں: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
جرمنی کی مائیکرو ہارویسٹ چینی کی صنعت سے نکلنے والے ضمنی مواد، خصوصاً مولاسز، کو فرمنٹیشن کے ذریعے اعلیٰ معیار کی پالتو جانوروں کی خوراک میں تبدیل کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے کم قیمت صنعتی فضلہ ایک قیمتی غذائی جزو بن جاتا ہے۔
سنگاپور کی کمپنی موٹّائنائی فوڈ ٹیک توفو اور سویا مِلک کی تیاری کے بعد بچ جانے والے سویا پلپ ’اوکارا‘ سے متبادل گوشت تیار کر رہی ہے۔ کمپنی نے ’جیرو میٹ‘ نامی پروڈکٹ متعارف کرائی ہے اور اس وقت پودوں پر مبنی ٹونا مچھلی کے متبادل پر بھی کام جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فرمنٹیشن کے ذریعے نہ صرف ذائقہ اور خوشبو بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ بعض ناقابل ہضم اجزا کو بھی غذائیت سے بھرپور پروٹین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وائیو ہل مینی کے مطابق بعض فنگس سیلولوز جیسے پیچیدہ مرکبات کو توڑ کر ایسے غذائی اجزا میں بدل دیتی ہیں جو انسانی جسم آسانی سے جذب کر سکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق خوراکی فضلے کو قیمتی غذاؤں میں تبدیل کرنے والی یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں خوراک کی قلت، ماحولیاتی آلودگی اور پائیدار غذائی نظام جیسے بڑے عالمی چیلنجز کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا غذائی نظام صحت بخش، متوازن اور متنوع خوراک کی فراہمی میں شدید ناکام، اقوام متحدہ
خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع اور آبادی میں اضافے کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں فرمنٹیشن پر مبنی یہ نئی جدتیں خوراک کی صنعت کا مستقبل بدل سکتی ہیں۔













