اگرچہ عام طور پر یہ بات معلوم ہے کہ کھانے کو زیادہ چبانے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے لیکن جدید تحقیق سے یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ زیادہ چبانا دماغی صحت کو بہتر بنانے اور حتیٰ کہ الزائمر جیسے مرض کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں امریکی غذائی ماہر ہوریس فلیچر کو ’دی گریٹ میسٹیکیٹر‘ یعنی ’عظیم چبانے والا‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ ایک شلجم کو 700 سے زائد بار چبانے کے بعد نگلتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کھانے کو اس وقت تک چبانا چاہیے جب تک وہ مکمل طور پر مائع نہ ہو جائے۔ وہ یہاں تک کہتے تھے کہ اگر لوگ زیادہ چبائیں تو امریکی معیشت کو روزانہ لاکھوں ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے کیونکہ لوگ کم کھانا کھائیں گے۔
اگرچہ ان کے خیالات کچھ حد تک ’ایکسٹریم‘ سمجھے گئے مگر سویڈن کے کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر میٹس ٹرولسن کے مطابق اس میں کچھ حقیقت ضرور موجود ہے۔
چبانے کے حیرت انگیز فائدے
تحقیق کے مطابق زیادہ چبانے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، کم کیلوریز استعمال ہوتی ہیں، ذہنی دباؤ اور بے چینی کم ہو سکتی ہے اور توجہ، ارتکاز اور یادداشت بہتر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
کچھ ماہرین کے مطابق دانتوں کی صحت اور الزائمر کے درمیان بھی تعلق پایا گیا ہے جس سے یہ خیال مضبوط ہوتا ہے کہ منہ اور دانتوں کی صحت دماغی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
چبانے کی ارتقائی تاریخ
انسانی ارتقا کے ماہرین کے مطابق ہمارے قدیم آبا و اجداد کے دانت اور جبڑے آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط تھے کیونکہ انہیں سخت غذائیں جیسے بیج، گری دار میوے اور جڑیں چبانی پڑتی تھیں۔
وقت کے ساتھ جب انسانوں نے آگ، کھانا پکانے اور خوراک کی پروسیسنگ شروع کی تو چبانے کی ضرورت کم ہوتی گئی۔
مزید پڑھیں: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟
آج صورتحال یہ ہے کہ انسان روزانہ تقریباً 35 منٹ چباتے ہیں جبکہ چمپینزی اور گوریلا جیسے جانور کئی گھنٹے چبانے میں گزارتے ہیں۔
چبانے کا پہلا مرحلہ: ہاضمہ
ماہرین کے مطابق چبانا ہاضمے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس دوران کھانا چھوٹے ذرات میں ٹوٹتا ہے، لعاب شامل ہوتا ہے اور ہاضمے کے انزائم فعال ہوتے ہیں۔
اگر کھانا اچھی طرح نہ چبایا جائے تو یہ آنتوں میں دیر تک رہ سکتا ہے جس سے گیس، اپھارہ اور قبض جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
زیادہ چبانے سے زیادہ توانائی اور کم بھوک
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو لوگ زیادہ چباتے ہیں ان کے جسم کو خوراک سے زیادہ توانائی ملتی ہے جبکہ انہیں کم بھوک محسوس ہوتی ہے۔
ایک تحقیق میں بادام کم چبانے والوں کے مقابلے میں زیادہ چبانے والوں نے چکنائی بہتر طریقے سے جذب کی۔ اسی طرح ایک اور تجربے میں زیادہ چبانے والے افراد نے کم بھوک محسوس کی اور ان میں ’بھوک ہارمون‘ بھی کم پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟
اسی وجہ سے ماہرین کہتے ہیں کہ آہستہ کھانا وزن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دماغی صحت اور یادداشت پر اثر
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق کے مطابق زیادہ چبانے سے دماغی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔
بڑے پیمانے پر ایک سروے میں یہ پایا گیا کہ جن افراد کی چبانے کی صلاحیت بہتر تھی ان کی یادداشت بہتر تھی، الفاظ یاد رکھنے کی صلاحیت زیادہ تھی اور ذہنی کارکردگی بہتر تھی۔
ماہرین کے مطابق چبانے سے دماغ تک خون کا بہاؤ بڑھتا ہے جسے بعض سائنسدان ’خون کا چھپا ہوا پمپ‘ بھی کہتے ہیں۔
کچھ محققین کا خیال ہے کہ چبانے کی صلاحیت اور الزائمر کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے اور دانتوں کی بحالی دماغی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔
توجہ اور ذہنی دباؤ میں کمی
مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ چیونگم چبانے سے توجہ بہتر ہوتی ہے، کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے اور ذہنی دباؤ اور اضطراب کم ہو سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثر عارضی ہوتا ہے اور زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتا۔
الغرض ماہرین کے مطابق چبانا ایک فطری اور اہم عمل ہے جو نہ صرف ہاضمے بلکہ دماغی صحت، یادداشت اور مجموعی فلاح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
لیکن اس میں کوئی جادوئی یا طے شدہ تعداد نہیں کہ کتنی بار چبانا ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کھانا آرام سے، مناسب حد تک چبایا جائے اور لطف کے ساتھ کھایا جائے۔














