پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے گھریلو اور کاروباری صارفین دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف ماڈلز کے سولر پینلز کی قیمتوں میں فی پینل قریباً 7 سے 9 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث نئے سولر سسٹمز کی تنصیب پہلے کے مقابلے میں کافی مہنگی ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں: 25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لیے لائسنس فیس ختم، نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری
واضح رہے کہ 585 واٹ کا سولر پینل جو کچھ عرصہ پہلے قریباً 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 27 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح 645 واٹ پینل کی قیمت قریباً 22 ہزار روپے سے بڑھ کر 31 ہزار 200 روپے ہوگئی ہے، جبکہ 720 واٹ ماڈل 25 ہزار روپے سے بڑھ کر قریباً 33 ہزار 500 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک سے سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی وجہ کیا ہے؟
سولر درآمدات پر ممکنہ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھیں، حسنات خان
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان نے کہاکہ سولر پینلز کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کی بڑی وجہ آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل سولر درآمدات پر ممکنہ ٹیکسوں اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے، اسی خدشے کے باعث مارکیٹ میں طلب اور قیمتیں دونوں بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ بے بنیاد گردش کرتی ہوئی خبریں ہیں۔
سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، نور بادشاہ
سولر ایکسپرٹ انجینیئر نور بادشاہ کے مطابق سولر سسٹمز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں، اور اسے صرف سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ درحقیقت، پورے سولر سسٹم کی لاگت مختلف اجزا اور مارکیٹ عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے انورٹرز کی قیمتوں میں قریباً 15 سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، چونکہ انورٹر کسی بھی سولر سسٹم کا بنیادی جزو ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہِ راست مجموعی سسٹم کی لاگت پر اثر ڈالتی ہے۔
نور بادشاہ نے کہاکہ اسی طرح کاپر کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں اضافے کے باعث وائرنگ، کیبلز اور دیگر برقی سامان مہنگا ہوا ہے، جس سے سولر انسٹالیشن کی لاگت میں قریباً 11 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
’دوسری جانب لیتھیم بیٹری بینکس اور ان سے متعلقہ اجزا کی قیمتوں میں بھی 15 سے 20 فیصد تک اثر پڑا ہے، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو بیٹری بیک اپ کے ساتھ سولر سسٹم لگوانا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ ڈالر کے ایکسچینج ریٹ، شپنگ چارجز، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر درآمدی اخراجات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں استعمال ہونے والے بیشتر سولر اجزا درآمد کیے جاتے ہیں۔ ان عوامل میں معمولی تبدیلی بھی مارکیٹ قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ مارکیٹ ڈیمانڈ اور سیزن بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، گرمیوں کے موسم اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث سولر سسٹمز کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے بعض اوقات قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
’لہٰذا اگر 5 کلو واٹ سولر سسٹم کی قیمت پہلے قریباً 18 لاکھ روپے تھی اور اب 27 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے تو اس کی وجہ صرف سولر پینلز کی قیمت میں اضافہ نہیں، بلکہ انورٹر، کاپر، لیتھیم بیٹری، درآمدی اخراجات، مارکیٹ ڈیمانڈ اور سیزنل عوامل کا مجموعی اثر ہے۔ یہی عوامل آج کل سولر مارکیٹ کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔‘
’سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی خبریں‘
سولر انسٹالیشن انڈسٹری سے وابستہ ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بیک اینڈ پر سلیکون کی قیمت تھوڑی بڑھ گئی ہے، ریٹ اور دیگر اخراجات تو سیکنڈری ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اصل بات یہ ہے کہ بہت سارے کمپوننٹس سلیکون سے بنتے ہیں، خاص طور پر کرسٹل لائن سلیکون سیلز جو سولر پینلز کی بنیاد ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں اب ویلیویشن میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ پہلے پوائنٹ ون اور پوائنٹ ون ون والا سسٹم تھا، اب اس میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ سیلز ٹیکس بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کی خبریں مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں، جس کی وجہ سے ڈیلرز اور امپورٹرز نے ٹیکس بڑھنے سے قبل ہی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سیزن میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، مگر یکدم سے اس اضافے کی مختلف وجوہات ہیں۔
یاد رہے کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں صارفین سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، تاہم قیمتوں میں تازہ اضافے سے خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے سولر سسٹم لگوانا نسبتاً مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے۔













