آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائے جانے والے مبالغہ آمیز دعوؤں اور حقائق میں واضح تضاد سامنے آ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد کردی
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے دوران مجموعی طور پر 7 افراد جان کی بازی ہارے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور مظاہرین شامل ہیں۔ تاہم بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے زائد ظاہر کیے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بھارتی ایکشن کمیٹی کی ایک اور گھٹیا سازش سے پردہ فاش۔۔
لاشوں کی جعلی ویڈیوز بنا رہے ہیں تا کے مظلومیت کا رونا رویا جا سکے اور اپنے گھٹیا عزائم کی تکمیل کی جا سکے …. حد ہے ویسے سفاکیت کی …#JAAC #Kashmir#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو pic.twitter.com/JorSgM4pzK
— Zaina Malik (@Zaina_Malik2) June 9, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد آزاد کشمیر کی صورتحال کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنا اور عوامی بے چینی کو ہوا دینا ہے۔قابل افسوس امر یہ ہے کہ برکھا دت سمیت بڑے صحافتی نام بھی اس پروپیگنڈے کا حصہ بن گئے ہیں۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشتگردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی قیادت کو شیڈول ون میں شامل کیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کی روشنی میں یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔
حکومتی ترجمان شوکت جاوید میر کے مطابق حکومت کو ایسے شواہد موصول ہوئے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ احتجاج کے دوران پرتشدد کارروائیوں، سڑکوں کی بندش، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ کو متاثر کرنے کا خدشہ موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب بھی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی حامی ہے، تاہم قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
These videos r clr evidence that Ppl of Kashmir want peace n have rejected the call of protests of Joint Awami Action Committee (JAAC) … #PeaceinAJK #کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#بھارتی_ایکشن_مارچ pic.twitter.com/z0XqU6VK4N
— Sehrish Khan (@Sehrikhan_) June 9, 2026
دوسری جانب آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں اور متعدد مقامی حلقوں نے بھی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی عمل کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں 9 جون کے احتجاج سے قبل ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار، نوٹیفکیشن جاری
مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں اختلافات اور احتجاجی سیاست اپنی جگہ موجود ہے، تاہم حقائق کے برعکس اعداد و شمار پیش کرنا اور صورتحال کو غیر معمولی رنگ دینا خطے کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کے مترادف ہے۔














