وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پارلیمانی سرگرمیوں میں تیزی لا دی ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلانے کے لیے سمریاں ارسال کر دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون کو شام 5 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس اسی روز شام 4 بجے بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ پڑھیں: بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے، صدر مملکت کی وزیراعظم سے گفتگو
انہوں نے مزید بتایا کہ امکان ہے کہ وفاقی بجٹ 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، تاہم حتمی فیصلہ آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی بدھ کو منعقد ہوگا، جو متعدد تاخیر کے بعد شیڈول کیا گیا ہے۔
یہ فورم وفاق اور صوبوں کے درمیان اقتصادی منصوبہ بندی اور پالیسی ہم آہنگی کے لیے اعلیٰ ترین آئینی ادارہ ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلانے کے لیے سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون شام 5 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس 10 جون شام 4 بجے بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔ امکان ہے کہ وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔…
— Fauzia Kalsoom (@FauziaKalsoom) June 9, 2026
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو ابھی تک قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کے حصے میں سے تقریباً 1.1 سے 1.2 کھرب روپے کی ممکنہ کٹوتی پر مکمل اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا، جو بجٹ کی تیاری میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ سازی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ اہم مالیاتی امور خصوصاً بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بعض معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں کم آمدنی والے طبقات کی فلاح کو ترجیح دی جائے: صدر زرداری کی وزیراعظم سے گفتگو
اس سے قبل حکومت نے بجٹ 5 جون کو پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، بعد ازاں اسے 10 جون تک موخر کیا گیا، تاہم اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے 12 جون تک مزید مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بھی عندیہ دیا ہے کہ کئی اہم بجٹ امور ابھی زیر غور ہیں، جبکہ محرم الحرام کی آمد اور محدود وقت نے بھی شیڈول کو متاثر کیا ہے۔
حکومت اس وقت آئی ایم ایف کی سخت مالیاتی شرائط کے تحت معاشی استحکام اور ترقی کے اہداف کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ جی ڈی پی گروتھ کا ہدف تقریباً 4 فیصد رکھا گیا ہے۔














