’بلائنڈ سائیڈ ڈائیورس‘: اس عمل کا بڑھتا رجحان جدید رشتوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے شریک حیات نے بغیر کسی پیشگی اشارے، شکایت یا سنجیدہ گفتگو کے اچانک طلاق کا فیصلہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:

ماہرین نفسیات اس رجحان کو ’بلائنڈ سائیڈ ڈائیورس‘ یا ’اچانک طلاق‘ قرار دیتے ہیں جو متاثرہ شخص کے لیے شدید ذہنی، جذباتی اور سماجی صدمے کا باعث بن سکتی ہے۔

’ایک صبح ناشتے پر اچانک شوہر نے چونکا دیا‘

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی صحافی اور مصنفہ ایو سیمنز کے مطابق وہ اپنے شوہر کے ساتھ ساڑھے 8 سال سے تعلق میں تھیں اور شادی کو صرف 6 ماہ ہوئے تھے جب ایک دن کھانے کی میز پر ان کے شوہر نے اچانک کہا کہ وہ خوش نہیں ہیں۔ چند روز بعد انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ شادی بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرنا چاہتے۔

اسی طرح ایک اور شخص جس نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی درخواست کی بتاتا ہے کہ اس کی اہلیہ ایک دن گھر سے بازار جانے کے بہانے نکلی اور پھر واپس نہیں آئی۔ بعد میں پولیس نے بتایا کہ وہ محفوظ ہے لیکن اپنے شوہر سے رابطہ نہیں کرنا چاہتی۔ چند ہفتوں بعد اسے ڈاک کے ذریعے طلاق کے کاغذات موصول ہوئے۔

نہ کوئی وضاحت، نہ بات چیت کا موقع

متاثرہ افراد کے مطابق اچانک علیحدگی کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہوتا ہے کہ انہیں نہ کوئی وضاحت ملتی ہے نہ بات چیت کا موقع اور نہ ہی رشتے کو بچانے کی کوئی کوشش نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیے: خیالی پلاؤ: جاگتے میں خواب دیکھنا ٹھیک لیکن لت خطرناک

ماہرین نفسیات کے مطابق بعض صورتوں میں گھریلو تشدد، جبر یا غیر محفوظ ماحول اچانک علیحدگی کی جائز وجہ ہو سکتے ہیں تاہم عام اور محفوظ ازدواجی تعلقات میں شخصیت اور تعلقات کے انداز بھی اس رویے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یکطرفہ اعلان: لوگ اچانک ایسا فیصلہ کیوں کرتے ہیں؟

امریکا کی یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے ماہر نفسیات پروفیسر جیفری سمپسن کے مطابق بعض افراد اپنے مسائل اور ناراضی کو طویل عرصے تک دل میں رکھتے ہیں اور ان پر کھل کر گفتگو نہیں کرتے لہٰذا ایسے افراد اکثر اچانک اور حتمی فیصلے کرنے کے زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ’اٹیچمنٹ اسٹائل‘ یعنی تعلقات میں جذباتی وابستگی کا انداز بھی رشتوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بعض افراد ترک کیے جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ جذباتی قربت یا وابستگی سے گھبراتے ہیں۔

مزید پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جذباتی دوری اختیار کرنے والے افراد بعض اوقات اپنے شریک حیات کو اچانک طلاق کے فیصلے سے حیران کر دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ڈینور کی ماہر نفسیات گیلینا روڈز کے مطابق زیادہ تر طلاقیں مکمل طور پر باہمی فیصلے کا نتیجہ نہیں ہوتیں اس لیے اکثر ایک فریق خود کو ’بلائنڈ سائیڈ‘ محسوس کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق کے بعد مرد اور خواتین مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ خواتین کو اکثر مالی دباؤ، رہائش، بچوں کی کفالت اور سماجی توقعات سے نمٹنا پڑتا ہے جبکہ مرد تنہائی، سماجی روابط کے کمزور ہونے اور ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات کے مطابق مرد عموماً جذباتی حمایت کے لیے اپنی شریکِ حیات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اس لیے علیحدگی کے بعد انہیں شدید تنہائی محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض تحقیقات میں طلاق یافتہ مردوں میں ڈپریشن اور خودکشی کے خطرات میں اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پیاروں کے زندہ دفن ہوجانے کا خوف، انسانوں کی عجیب و غریب احتیاطی تدابیر

ماہرین جدید ڈیجیٹل دور کو بھی تعلقات میں بڑھتی بے چینی سے جوڑتے ہیں۔ ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو مسلسل متبادل رشتوں کا احساس دلایا ہے جس کے باعث بعض افراد موجودہ تعلقات میں مکمل وابستگی سے گریز کرتے ہیں۔

’آلٹرنیٹو مانیٹرنگ‘ کیا ہے؟

ماہرین اس رجحان کو ’آلٹرنیٹو مانیٹرنگ‘ کہتے ہیں یعنی مسلسل یہ سوچنا کہ شاید کہیں کوئی بہتر ساتھی موجود ہو۔ ان کے مطابق یہ رویہ بے وفائی اور علیحدگی دونوں کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

شمال مغربی یونیورسٹی کے ماہرِ سماجی نفسیات ایلی فنکل کے مطابق جدید دور میں شادی سے توقعات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ لوگ اب صرف معاشی یا سماجی استحکام نہیں بلکہ جذباتی، نفسیاتی اور ذاتی تکمیل بھی اپنے شریک حیات سے چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق اس تبدیلی نے ایک طرف کامیاب شادیوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور اطمینان بخش بنایا ہے، لیکن دوسری طرف شادیوں کو زیادہ نازک بھی کر دیا ہے کیونکہ معمولی مایوسیاں بھی بعض اوقات تعلقات کے خاتمے کا سبب بن جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: انسانوں کے صرف 5 نہیں 33 حواس، نئی تحقیق نے صدیوں پرانا تصور چیلنج کردیا

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ رومانوی محبت اور مستقل تعلقات کی خواہش آج بھی دنیا بھر میں مضبوط ہے۔ مختلف ممالک میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگ اب بھی طویل المدتی تعلقات میں محبت کو سب سے اہم عنصر سمجھتے ہیں۔

خوشگوار تعلقات کی کنجی

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خوشگوار تعلقات خود بخود قائم نہیں رہتے بلکہ ان کے لیے مسلسل مکالمہ، اعتماد، وقت اور مشترکہ کوشش درکار ہوتی ہے۔

اگرچہ اچانک طلاق ایک نہایت تکلیف دہ تجربہ ثابت ہو سکتی ہے تاہم بہت سے متاثرہ افراد بعد ازاں اپنی زندگیوں میں نئے مواقع، بہتر تعلقات اور زیادہ اطمینان حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

ماہرین کے مطابق ہر تعلق کامیاب نہیں ہوتا لیکن کسی تعلق کا اختتام ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات یہ زندگی کے ایک نئے اور بہتر باب کی شروعات بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز ڈسکوری کے اربوں ڈالر کے انضمام کو عدالتی حکم سے روک دیا گیا

فیفا ورلڈ کپ 2026 جیتنے پر اسپین پر ڈالروں کی بارش، کتنا انعام ملا؟

کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، دھوئیں نے امریکا کے کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا

سی پی ایل 2026، صائم ایوب جمیکا کنگز مین اسکواڈ کا حصہ بن گئے

پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں متوقع

کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟

نورین نیازی کے بیان پر عوام کا شدید غصہ، مولانا فضل الرحمان معافی نہ مانگنے پر بضد، کالعدم ایکشن کمیٹی کی بڑی سازش

کالم / تجزیہ

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟

ایک اور وکلا تحریک: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں