بھارت میں شرحِ پیدائش پہلی مرتبہ آبادی برقرار رکھنے کی حد سے نیچے

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں پہلی بار شرحِ پیدائش اس حد سے نیچے آ گئی ہے جو طویل مدت میں آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مجموعی شرحِ پیدائش 1.9 بچے فی خاتون تک گر گئی ہے، جبکہ آبادی کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے یہ شرح کم از کم 2.1 ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی شرح پیدائش میں نمایاں کمی، وجوہات کیا ہیں؟

اس پیشرفت نے مستقبل میں افرادی قوت کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔

بھارت کئی دہائیوں تک تیز رفتار آبادی میں اضافے کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں شرحِ پیدائش مسلسل کم ہو رہی تھی۔

ماہرین کے مطابق خواتین کی تعلیم میں اضافہ، مانع حمل ذرائع تک بہتر رسائی، خاندانی فیصلوں میں خواتین کا بڑھتا کردار اور بچوں کی پرورش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اس تبدیلی کی اہم وجوہات ہیں۔

اس کے علاوہ بچوں کی شرحِ اموات میں کمی نے بھی خاندانوں میں زیادہ بچوں کی خواہش کو کم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: سال 2024 میں کتنے افراد پیدا ہوئے، یکم جنوری 2025 کو دنیا کی آبادی کتنی ہوجائے گی؟

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شرحِ پیدائش مختلف ریاستوں میں یکساں نہیں ہے، شمالی ریاست بہار میں شرحِ پیدائش 2.9 اور اتر پردیش میں 2.6 ریکارڈ کی گئی، جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی، تامل ناڈو اور کیرالا جیسی نسبتاً ترقی یافتہ ریاستوں میں یہ شرح 1.2 سے 1.3 کے درمیان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر تعلیم، صحت اور خواتین کی سماجی حیثیت ان علاقوں میں کم شرحِ پیدائش کا سبب بنی ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والی دہائیوں میں بھارت کو عمر رسیدہ آبادی اور سکڑتی ہوئی افرادی قوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس سے معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ کم نوجوان افراد ملازمتوں اور پیداواری شعبوں میں شامل ہوں گے جبکہ بزرگ آبادی کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

شرحِ پیدائش میں کمی سیاسی اثرات بھی مرتب کر سکتی ہے، شمالی ریاستوں کی آبادی جنوبی ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پارلیمانی نشستوں اور مالی وسائل کی تقسیم پر تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا

ادھر بعض ریاستی حکومتوں نے زیادہ بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی مراعات اور بانجھ پن کے علاج کی سہولتیں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ حکومت کو شرحِ پیدائش میں کمی کے ساتھ ساتھ مستقبل کی عمر رسیدہ آبادی کے لیے صحت، پینشن اور سماجی تحفظ کے جامع نظام پر توجہ دینی چاہیے تاکہ آنے والے برسوں کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp