ہنی مون کو عموماً نوبیاہتا جوڑے کی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں شمار کیا جاتا ہے لیکن بھارت میں ایک خاتون کے لیے یہی سفر ازدواجی تنازع کی وجہ بن گیا۔ شوہر کی جانب سے ہنی مون پر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو ساتھ لے جانے پر اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ معاملہ طلاق تک جا پہنچا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش کے ضلع میرٹھ کی رہائشی خاتون اور دہلی کے پٹیل نگر سے تعلق رکھنے والے شخص کی شادی گزشتہ سال ایک میٹرمونیل ویب سائٹ کے ذریعے طے پائی تھی۔ شادی کے بعد نوبیاہتا جوڑا ہنی مون کے لیے نینی تال گیا تاہم شوہر اپنے والدین، بہن اور بھائی کو بھی اس سفر میں ساتھ لے گیا جس پر بیوی نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہنی مون مرڈر کیس: بھارتی پولیس کی معمولی غلطی سے قتل کی ملزمہ رہا ہوگئی
خاتون کا مؤقف ہے کہ ہنی مون ایک نجی سفر ہونا چاہیے تھا لیکن شوہر کے اہلِ خانہ کی موجودگی کے باعث دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت نہیں گزار سکے جس سے ازدواجی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
دوسری جانب شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے خاندان کو خوش رکھنے کے لیے انہیں سفر میں شامل کیا تھا اور اسے اپنے فیصلے میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں: نئی شادی شدہ خاتون نے ہنی مون سے واپسی پر خودکشی کیوں کی؟
رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب جوڑے نے دبئی جانے کا منصوبہ بنایا۔ بیوی کو امید تھی کہ اس بار صرف وہ اور اس کا شوہر سفر کریں گے لیکن شوہر نے ایک مرتبہ پھر اپنے خاندان کو ساتھ لے جانے کی خواہش ظاہر کر دی۔
دونوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات بالآخر مقامی تھانے تک جا پہنچے۔ پولیس نے صلح کروانے کی کوشش کی تاہم جب کوئی حل نہ نکل سکا تو کیس پولیس لائنز میں قائم فیملی کونسلنگ سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ میاں بیوی کے ساتھ تین الگ الگ نشستیں کی گئیں تاکہ شادی کو بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہنی مون مرڈر‘ نئی دلہن نے شوہر کو اپنے سابق بوائے فرینڈ کی مدد سے قتل کردیا
دونوں فریقین کو الگ الگ سنا گیا اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔ اس دوران دونوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ تاہم متعدد کوششوں کے باوجود کوئی مفاہمت نہ ہو سکی اور دونوں اپنے فیصلوں پر قائم رہے اور علیحدگی پر آمادہ دکھائی دیے۔














