وفاقی بجٹ کیسے منظور ہوتا ہے؟

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بجٹ کی منظوری ایک باقاعدہ پارلیمانی عمل کے تحت ہوتی ہے جس میں قومی اسمبلی، سینیٹ، متعلقہ قائمہ کمیٹیاں اور وزارت خزانہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کرتے ہیں اور اس دوران تمام تجاویز کو وزیر خزانہ پڑھتے ہیں جس کے بعد بجٹ دستاویزات کو مزید غور و خوض کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خزانہ کمیٹیوں کے علاوہ منصوبہ بندی سے متعلق کمیٹیوں کو بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔

ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ارکان پارلیمنٹ، وزیر خزانہ، سیکریٹری خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران شرکت کرتے ہیں۔ اجلاسوں کے دوران بجٹ میں شامل ٹیکس اقدامات، ترقیاتی منصوبوں، اخراجات اور محصولات کے اہداف سمیت مختلف تجاویز پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔

کمیٹیاں مختلف شعبوں سے موصول ہونے والی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرتی ہیں۔ پارلیمانی شیڈول کے مطابق یہ کمیٹیاں بجٹ پیش ہونے کے بعد 10 روز کے اندر اپنی سفارشات قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ارسال کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔

بجٹ تجاویز دونوں ایوانوں کی متعلقہ کمیٹیوں میں زیر غور ہوتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں بھی بجٹ پر عمومی بحث جاری رہتی ہے اور متعدد ارکان بجٹ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ پارلیمانی قواعد کے مطابق بجٹ پر یہ بحث 14 روز تک جاری رہتی ہے، جس کے دوران ارکان حکومتی مالیاتی پالیسیوں، ٹیکس اقدامات اور ترقیاتی ترجیحات پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: وفاقی بجٹ 27-2026: نوجوانوں کے لیے کیا خوشخبریاں متوقع ہیں؟

کمیٹیوں کی سفارشات پہلے سینیٹ اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ ان سفارشات کو فنانس بل کا حصہ بنایا جاتا ہے تاکہ انہیں بجٹ دستاویزات میں شامل کیا جا سکے۔

بجٹ منظوری کے حتمی مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی منظوری کی تاریخ کا تعین کرتے ہیں اور اسی روز وزیر خزانہ کمیٹیوں کی منظور شدہ سفارشات کو فنانس بل میں شامل کرکے بجٹ کو شق وار قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہیں اور ایوان سے اس کی منظوری حاصل کی جاتی ہے۔

آئین کے مطابق وفاقی بجٹ کی حتمی منظوری صرف قومی اسمبلی سے لی جاتی ہے جبکہ سینیٹ کی سفارشات مشاورتی حیثیت رکھتی ہیں اور بجٹ کی قانونی منظوری کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا حکومتی منصوبہ، مگر ’آئی ایم ایف‘ کیا کہتا ہے؟

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد فنانس بل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور نئے مالی سال کے آغاز پر بجٹ میں شامل ٹیکس اور مالیاتی اقدامات نافذ العمل ہو جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں